مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 107

107 زندگی کی بحالی یا احیائے موتی؟ کر کہیں دور چلا گیا تو وہ رومن قانون کی گرفت میں آئے بغیر نہ رہتے کہ مسیح کے انصاف سے بچ نکلنے کے جرم میں وہ اس کے ممد و معاون ہوئے۔آسمان پر اٹھائے جانے کی کہانی گھڑنے کا خیال خواہ کتنا ہی انوکھا اور نرالا کیوں نہ ہو اس راہ کو اختیار کرنے اور اس کی آڑ میں پناہ لینے کا راستہ نسبتاً محفوظ ضرور تھا لیکن اس میں شک نہیں کہ اس طرح جھوٹ میں ملوث ہونا پڑتا تھا۔ہمیں مسیح کے ابتدائی شاگردوں کی امانت و دیانت کی صلابت کو خراج تحسین پیش کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے نہایت پر خطر صورت حال سے دوچار ہونے کے باوجود کسی جھوٹے اور خلاف واقعہ بیان یا من گھڑت کہانی میں پناہ نہیں لی۔اناجیل اربعہ کے چاروں مصنفین نے غلط بیانیوں کے دھند کے پردہ کے پیچھے پناہ لینے کی بجائے اس بارہ میں خاموشی اختیار کرنے کی راہ اپنائے رکھی۔اس میں شک نہیں کہ اس طرح انہیں اپنے مخالفین و معاندین کے تمسخر و استہزا اور ایذارسانیوں کا نشانہ بنا پڑا ہو گا لیکن انہوں نے یہ سب کچھ خاموشی اور صبر سے برا داشت کرنے کو ترجیح دی۔ان لوگوں کی طرف سے جنہیں اندرونی کہانی یا یوں کہہ لیں کہ اصل حقیقت کا علم تھا پر اسرار خاموشی کا ایک اثر اس رنگ میں ظاہر ہوا کہ بعد کے زمانوں میں آنے والی عیسائی نسلوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے اور پہنچتے چلے گئے۔صلیب پر مر جانے کی عام یہودی روایت کے زیر اثر وہ ضرور حیران ہوئے ہوں گے کہ یہ کیا بات ہے کہ جب مسیح کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی تھی تو پیچھے اس کے جسم کے باقی رہ جانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔وہ سوچتے ہوں گے کہ آخر جسم کہاں غائب ہو گیا اور اس کا بنا کیا؟ اگر یہ سمجھا جائے کہ مسیح کی روح اس کے جسم میں واپس لوٹ آئی تھی تو وہ واپس آئی کیوں اور اس کے واپس آنے میں کیا راز پوشیدہ تھا؟ ان بنیادی سوالات کا خاطر خواہ جواب نہ ملنے کے نتیجہ میں نت نئے سوالات کا ذہنوں میں پیدا ہونا ایک قدرتی امر تھا۔اگر زندگی بحال ہونے سے مراد یہ تھی کہ مسیح اسی جسم میں پھر واپس لوٹ آیا تو مادی انسانی ڈھانچہ کی قید میں دوبارہ لوٹ آنے کے بعد یسوع مسیح کے ساتھ کیا کچھ پیش آیا اور اسے دوسری مرتبہ کن حالات میں سے گزرنا پڑا؟ کیا اب کے وہ اس جسم میں دائمی طور پر مقید و مقفل ہو کر رہ گیا تھا اور اس سے دوبارہ رہائی ممکن نہ رہ تھی؟ بر خلاف اس کے اگر مسیح کی روح ایک دفعہ پھر اس جسم سے رخصت ہوئی تو وہ زندگی کی بحالی عارضی تھی یا مستقل؟ اگر وہ اس جسم میں مقید و مقفل نہ رہا تھا تو دوسری بار موت واقع ہونے پر اس جسم کا بنا کیا؟ اسے دفنا یا کہاں گیا؟ کیا اس کی تدفین کا تاریخی دستاویزات یا قدیم مخطوطات میں کوئی ذکر ملتا ہے؟