مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 82

میسحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 82 رہے گا۔یہ قطعا ممکن نہیں ہے کہ جنہوں نے پیش بندی کے طور پر پہلے ہی مر ہم تیار کر لیا تھا انہوں نے کسی قابل اعتماد اور مضبوط اشارہ کے بغیر ہی ایسا کیا تھا۔وہ قابل اعتماد اور مضبوط اشارہ یہی ہو سکتا ہے کہ مسیح صلیب پر مرے گا نہیں بلکہ زخمی حالت میں اسے زندہ اتار لیا جائے گا اور اسے اس وقت زخموں کو مندمل کرنے والی بہت ہی مؤثر اور طاقتور دوا کی ضرورت ہو گی۔یہ بات بھی ذہن نشین ہونی ضروری ہے کہ جس قبر یا مقبرہ میں مسیح کو رکھا گیا تھا اس کی جائے وقوع کے بارہ میں بہت راز داری سے کام لیا گیا تھا۔اس کے صرف چند شا گر دوں کو ہی اس کا علم تھا۔راز داری سے کام لینے کی وجہ ظاہر تھی اور وہ یہی تھا کہ وہ ہنوز زندہ تھا اور راز فاش ہونے پر اس کے دوبارہ پکڑ لیے جانے کا خطرہ موجود تھا۔جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ مقبرہ نما جگہ کے اندر کیا کچھ واقع ہوا اس پر کئی لحاظ سے بحث ہو سکتی ہے۔لیکن یہ بات تنقیدی جائزہ کے آگے ٹھہر نہیں سکتی اور اسے کسی صورت ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ جو وجودیا با شخص خود اپنے پاؤں اور قدموں سے چلتا ہوا اس مقبرہ نما جگہ سے باہر نکلا وہ فی الواقعہ مر گیا تھا اور مر کر پھر جی اٹھا تھا۔اس بارہ میں ایک ہی شہادت پیش کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ خود عیسائی صاحبان کا اپنا ایمان ہے کہ مسیح جب چلتا ہوا مقبرہ نما جگہ سے باہر آیا تو اسی جسم کے ساتھ باہر آیا جسے صلیب دی گئی تھی اور انہی خراشوں اور زخموں کے ساتھ باہر آیا جو صلیب پر لٹکنے کی وجہ سے لگے تھے۔خود مسیحیوں کے اپنے ایمان اور عقیدہ کی رو سے وہ اسی جسم کے ساتھ باہر آیا تو از روئے عقل ایک ہی منطقی نتیجہ اس کا نکلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ مراہی نہ تھا۔مسیح کے بلا توقف مسلسل زندہ رہنے کی ایک شہادت اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ تین دن اور تین راتوں کے بعد وہ پبلک یا عوام الناس کو تو کہیں نظر نہ آیا اور نظر آیا تو صرف اپنے شاگردوں کو۔اس کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ظاہر ہی ان لوگوں پر کیا جن پر اسے پورا اعتماد تھا کہ وہ اس کے ہنوز زندہ ہونے کا راز فاش نہیں کریں گے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ دن کے اجالے میں باہر نکلنے اور لوگوں کے سامنے آنے سے گریز کرتا ہے اور اپنے قابل اعتماد شاگر دوں سے بھی ملتا ہے تو رات کی تاریکی کے سائے میں ملتا ہے۔بائبل کے بیان سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ راز کو راز ہی رکھنے کی ضرورت و اہمیت کے پیش نظر وہ خطرہ کے مقام سے دور رہتا تھا اور خطرہ کے مقام سے جلد ہی غائب ہو جاتا تھا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک دفعہ مرنے کے بعد اسے نئی زندگی عطا کر دی گئی تھی اور وہ نئی زندگی تھی بھی دائمی یعنی