مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 56
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 56 مسیحیوں کے عقیدہ کے بموجب اگر مسیح تین دن رات کے لئے مر گیا تھا تو موت کا یہی مطلب لینا ہو گا کہ ان تین دنوں اور تین راتوں میں روح نے جسم سے اپنا تعلق منقطع کر لیا تھا اور روح اس میں سے پرواز کر گئی تھی۔اس کا صاف اور واضح مطلب یہی بنتا ہے کہ روح نے پرواز کر کے جسم سے اپنا تعلق ایسے حتمی رنگ میں منقطع کر لیا تھا کہ پیچھے صرف ایک مردہ لاش ہی باقی رہ گئی تھی۔سو گویا اس طرح مسیح کو ایک مادی اور فانی جسم میں مقید رہنے سے بالا آخر خلاصی مل گئی لیکن قید سے اس رہائی کو کسی صورت میں بھی سزا قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ دینا چاہیے۔”بیٹے کی مقدس روح کی اپنی پر جلال و پر جمال شان و شکوہ کی طرف مراجعت کو کسی لحاظ سے سے بھی عام انسانی موت پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔انسانی موت کے ساتھ خوف وابستہ تو ہو تا ہے لیکن اس خوف کا روح کی جسم سے علیحدگی اور جدائی سے کوئی تعلق نہیں ہو تا۔روح تو ایک نئے شعور اور نئی آگاہی سے ہمکنار ہو کر جسم سے علیحدگی اختیار کر رہی ہوتی ہے بلکہ موت کے خوف اور دہشت کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ مرنے والے کا اپنے پیچھے چھوڑے جانے والے بہت سے عزیزوں، پیارے وجو دوں اور مرغوب و دل پسند چیزوں یعنی کل پسماندگان سے ہمیشہ کے لیے تعلق منقطع ہو جاتا ہے۔اسی لیے بسا اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسا شخص جس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور اس کے عزیز واقارب ہی حیات ہوتے ہیں کہ جن کی خاطر وہ زندہ رہے وہ کھو کھلی قسم کی بے کیف زندگی بسر کرنے پر موت کو ترجیح دینے لگتا ہے۔زندگی میں اس کی دلچسپی اس حد تک ختم ہو جاتی ہے کہ وہ مر جانا چاہتا ہے۔جہاں تک مسیح کا تعلق ہے اس امر کا کوئی امکان نہ تھا کہ اسے زندگی میں یاموت کے وقت کسی قسم کی ندامت یا پشیمانی سے دوچار ہونا پڑا ہو۔اس کے لئے تو موت کی کھڑ کی صرف ایک سمت میں کھلتی تھی اور وہ سمت کسی خسارہ کی نہیں بلکہ سراسر نفع اور خیر و فلاح کی سمت تھی۔پھر جسم سے اس کے علیحدہ ہونے یا اس میں سے کوچ کرنے کو ایک انتہائی قابل رحم اور اذیت ناک تجربہ سے کیوں تعبیر کیا جائے؟ مزید بر آس جیسا کہ عیسائی صاحبان ہمیں باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں مسیح نے محض تمثیلی رنگ میں جان نہیں دی تھی بلکہ فی الحقیقت ایک دفعہ موت کا مزہ چکھا تھا اور مرنے کے بعد وہ پھر اسی جسم میں لوٹ آیا تھا۔ایسی صورت میں اسی جسم کے اندر واپس لوٹ آنے کا مطلب اس کے سوا کیا ہو گا کہ ایک سراسر ناممکن اور خلاف عقل بات کو اس کی طرف منسوب کیا جائے۔موت کے وقت جسم کو چھوڑ دینے اور اس سے کلیۂ کنارہ کش ہو جانے کے بعد جب وہ اسی جسم میں واپس لوٹا تو کیا اس کی اس مراجعت کو نئی پیدائش سے تعبیر کیا جائے