مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 35
35 گناہ اور کفارہ حیرانی لاحق ہوتی ہے اس تعلق کی بنا پر جو ایک طرف گناہ اور کفارہ“ کے مسیحی تصور نیز دوسری طرف روزانہ بکثرت سرزد ہونے والے گناہوں کے مابین پایا جاتا ہے۔اہل امریکہ عملی طور پر مسیحی اقدار سے کتنے ہی دور کیوں نہ ہو چکے ہوں یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ وہ تمام تر گناہوں میں ملوث ہونے کے باوجود گناہ اور کفارہ “ کے مسیحی عقیدہ پر زبانی کلامی ہی سہی ایمان ضرور رکھتے ہیں۔اور اب بھی عقیدہ ان کا یہی ہے کہ مسیح ان کا نجات دہندہ ہے۔لیکن افسوس صد افسوس! یہ اور ان کے دوسرے عقائد ان کے کسی کام نہ آسکے۔امریکہ میں جرائم کا بے محابہ ارتکاب کرنے والوں کی اکثریت ایسے ہی نام نہاد عیسائیوں پر مشتمل ہے۔یہ صحیح ہے کہ مسلمان اور دوسرے لوگ بھی جرائم سے یکسر مبرا نہیں ہیں لیکن ان کا معاملہ دوسرا ہے کیونکہ وہ کفارہ پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔سوال یہ ہے کہ ایسے مجرم جو مسیحی ہیں اور مسیح کی رضا کارانہ قربانی پر ایمان رکھتے ہیں کیا ان سب کو خدا کی طرف سے معافی مل جائے گی ؟ اگر مل جائے گی تو ملے گی کس طرح؟ ظاہر ہے مسیحی مجرموں میں سے ایک بڑی تعداد ایسے مجرموں کی ہو گی جو انجام کار اسی دنیا میں پکڑے جائیں گے اور ملکی قانون کے تحت سزا پا کر کیفر کردار کو پہنچ جائیں گے۔بہت سے لوگ ایسے بھی ہوں گے جو اس دنیا میں قانون کی گرفت میں آنے سے بچ جائیں گے یا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ سالہا سال تک وہ جو گناہ کرتے رہے تھے انہیں ان میں سے صرف بعض گناہوں کی سزا مل جائے اور باقی گناہوں کی سزا سے وہ بیچ رہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح کی رضا کارانہ قربانی کے باوجود کلی یا جزوی سزا تو انہیں اسی دنیا میں مل گئی۔حل طلب بات یہ ہے کہ جو مسیحی مجرم ملکی قانون کے تحت سزا پالیتے ہیں مسیحیت ان کے لئے موعودہ معافی کی تلافی کس طرح کرے گی ؟ نیز جو مجرم اسی دنیا میں قانون کی گرفت میں آنے سے بچ جاتے ہیں مسیحیت انہیں مزید معافی کے کس وعدے سے نوازے گی ؟ اس تعلق میں ایک معمہ اور بھی سامنے آتا ہے اور وہ معمہ ایک غیر متعین، غیر واضح اور مبہم صورت حال کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔وہ صورت حال یہ ہے کہ مثال کے طور پر ایک مسیحی شخص ایک بے قصور غیر مسیحی کے خلاف جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ مسیحی اعتقاد کی رو سے اس مسیحی مجرم کو تو مسیح پر ایمان رکھنے کے انعام کے طور پر معاف کر دیا جائے گا اور اس کی سزا مسیح کے کھاتہ میں منتقل ہو کر وہاں محسوب ہو جائے گی لیکن اس بے چارے غیر مسیحی مظلوم کے نفع و نقصان کی صورت کیا بنے گی ؟ اگر دیکھا جائے تو بیچارا مسیح خود اور ظلم کا شکار ہونے والا وہ بے چارہ غیر مسیحی دونوں ہی گھاٹے میں رہیں گے۔