مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 34
میسحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 34 دینا چاہیے کہ مجرم کا فرض ہے کہ وہ اپنی نجات اور مخلصی کے لئے ”خدا کے بیٹے یعنی خداوند یسوع مسیح سے دعا کرے۔اس کے بعد مقدمہ ختم کر کے معاملہ کو وہیں ٹھپ کر دینا چاہیے۔عدالت گستری کا سارا کام ایک کھانہ کے مندرجات کو دوسرے کھانہ میں منتقل کرنے تک محدود قرار دینا چاہیے۔اس لحاظ سے مجرم کے کھاتے میں سے اس کی سزا کا حساب کتاب مسیح کے کھاتے میں منتقل ہو جائے گا۔آیئے ہم بات واضح کرنے کی خاطر اپنی توجہ کو کچھ وقت کے لئے ریاست متحدہ امریکہ پر مرکوز کریں۔وہاں جرائم کی جو صورت حال ہے اسے ذرا ذہن میں لائیں۔راہ گیروں کو زدو کوب کرنے انہیں لوٹنے اور قتل کرنے واقعات اس درجہ عام ہیں کہ روزانہ ہی اس کثرت سے رونما ہو رہے ہوتے ہیں کہ انہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں نے نیویارک میں ریڈیو کا بٹن گھمایا، سوئی ایک ایسے سٹیشن پر جانکی جو لوٹ مار اور قتل و غارت گری کے واقعات نشر کرنے کے لئے وقف تھا۔ان نشریات کو سننا انتہائی دہشت ناک تجربہ سے کسی طرح کم نہ تھا۔اچانک پیش آنے والا یہ تجربہ اتنادر دناک اور تکلیف دہ تھا کہ میں اسے آدھ گھنٹہ سے زیادہ برداشت نہ کر سکا۔اس کے بعد مزید کچھ سننا میرے لئے ممکن نہ تھا۔امریکہ میں قریباً ہر پانچ منٹ کے بعد ایک قتل ہو رہا تھا۔اور پے درپے ہونے والے قتل کے ان واقعات کی خبریں مسلسل نشر ہو رہی تھیں۔بعض رپورٹر تو جو قتل کے واقعات کو خود مشاہدہ کر رہے ہوتے تھے بہت ہی دہشت ناک رپورٹنگ کر رہے ہوتے تھے۔ہمارا یہ ارادہ نہیں ہے کہ ہم امریکہ میں کیسے جانے والے جرائم کا منظر کشی کے رنگ میں تفصیلی نقشہ یہاں پیش کریں۔کون نہیں جانتا کہ جو ممالک جرائم کی بھر مار کے لئے مشہور ہیں امریکہ ان میں سر فہرست ہے۔خاص طور پر بڑے شہروں جیسے شکاگو، نیو یارک، واشنگٹن وغیرہ میں جرائم کی کوئی انتہا نہیں۔ان میں سے بالخصوص نیو یارک میں راہ گیروں کو زدو کوب کر کے لوٹنے کے واقعات بہت ہی عام ہیں۔جو بے گناہ شہری لٹیروں کا مقابلہ کرنے کی جرات کرتے ہیں ان کے ہاتھ پاؤں توڑ کر انہیں اپانج کر دینے کے واقعات کی بھی کمی نہیں۔روز مرہ کے واقعات پر یکجائی نظر ڈالی جائے تو معمولی فائدہ کی خاطر انسانوں کے اعضا کاٹ پھینکنے اور بے گناہوں کو بے دریغ موت کے گھاٹ اتار دینے کی بہت مکروہ اور گھناؤنی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔آج کل کی دنیا میں جرائم کے بڑھتے ہوئے رجحان سے صرف نظر کرتے ہوئے اکیلے امریکہ میں ہی جرائم کی صورت حال کی وجہ سے انسان حیران و پریشان اور ششدر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔یہ پریشانی اور