مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 33
33 گناہ اور کفارہ مطابق ہوتی ہے۔ضروری ہوتا ہے کہ دونوں کے مابین کسی نہ کسی حد تک توازن و تناسب موجو د ہو۔جرم اور سزا میں توازن و تناسب کے پہلو کو ہم قبل ازیں بھی خاصی تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔اگر چہ ہم نے مالی قرضوں سے متعلق کی جانے والی بے ضابطگیوں کے ضمن میں اس پہلو پر روشنی ڈالی تھی لیکن تناسب و توازن کی دلیل ایک ایسی محکم دلیل ہے جو دوسرے جرائم مثلاً بے گناہ شہریوں کو زخمی یا اپانچ کرنا یا انہیں قتل کرنا یا کسی لحاظ سے بھی انہیں بے عزت کرنا وغیرہ جرائم پر اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ اطلاق پاتی ہے۔جرم جتنازیادہ شدید نوعیت کا ہو گا متوقع سزا کی نوعیت اور شدت بھی اسی کے مطابق ہو گی۔جرم وسزا کے ایک پہلو کا تعلق معافی سے بھی ہے۔میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوں کہ خدا اگر چاہے تو انسانوں کو تمام خطائیں معاف کر سکتا ہے۔اس پہلو سے اگر دیکھا جائے تو ایک بے گناہ اور سراسر معصوم انسان کو سزا دینے کے ذریعہ جملہ بنی نوع انسان کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا سرے سے سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔تاہم اگر اس پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک مجرم کی سزا کو کسی دوسرے معصوم انسان کی طرف منتقل کرنا مقصود ہو اور سزا کے انتقال کے لئے اس امر کو بنیاد بنایا گیا ہو کہ اس معصوم نے رضاکارانہ طور پر اس سزا کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تو یقیناً ایسی صورت میں انصاف کا تقاضایہ ہو گا کہ سزا میں تخفیف کیسے یا اس میں معمولی سی بھی نرمی پیدا کیے بغیر پوری کی پوری سزا کو اس دوسرے شخص کی طرف منتقل کیا جائے۔اس بارہ میں بھی ہم پہلے ہی بہت کچھ روشنی ڈال چکے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسیحی حضرات اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ”باپ خدا“ نے اپنے بیٹے " مسیح کے معاملہ میں انصاف کے تقاضے کو بھر پور انداز میں پورا کیا؟۔اگر پورا کیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیائے عیسائیت کے وہ تمام مجرم جو مسیح کے وقت میں پیدا ہوئے اور وہ تمام مجرم بھی جو بعد کے زمانوں میں پیدا ہوئے اور جو جزا سزا کے دن تک پیدا ہوتے چلے جائیں گے ان سب کو جو سزاملنی چاہیے تھی اسے مجتمع اور مر تکز کر کے اس میں جہنم کی سی شدت کو اس درجہ تک پہنچا دیا گیا تھا کہ مسیح کو محض تین دن رات جو اذیت اٹھانا پڑی اس میں ان تمام سزاؤں کی تعذیب بھی سموئی ہوئی تھی جس کے تمام کے تمام مذکورہ بالا گناہگار سزاوار تھے۔اگر واقعہ ایسا ہی ہوا تو پھر کسی عیسائی حکومت کو نہیں چاہیے کہ وہ کسی عیسائی کو کسی بھی جرم کی کوئی سزادے کیونکہ کفارہ کی ادائیگی کے باوجود سزا دینا انتہائی نا انصافی کے مترادف ہو گا۔تمام قانونی عدالتوں کو معاملہ کی تہہ تک پہنچنے نیز جرم اور مجرم کی نشاندہی اور تصدیق کرنے کے بعد فیصلہ یہ