مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 31
31 گناہ اور کفارہ کی زندگی گزار و اور اس کے باوجو د آخر وقت میں ایمان لا کر اگلے جہان میں نجات یافتہ کے طور پر دوبارہ جنم لے لو۔کیا یہی ہے حکیمانہ عدل کی وہ صفت جسے مسیحی صاحبان خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں ؟ عدل کا ایسا تصور بلکہ ایسا خد اخود خدا ہی کے پیدا کر دہ انسانی ضمیر کے لئے یکسر نا قابل قبول ہے یا پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ افسوس ! خود خدا نے انسانی ضمیر کو صحیح اور غلط یا نیکی اور بدی میں تمیز کی اہلیت سے عاری بنایا ہے۔اس سارے معاملہ کا انسانی فہم و ادراک کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو انسان محسوس کرتا ہے کہ اسے ایسی مسیحی فلاسفی کو بے معنی اور بے اصل قرار دے کر مسترد کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔حقیقت یہی ہے کہ گناہ اور کفارہ کی اس فلاسفی کی نہ کوئی حقیقت ہے اور نہ کوئی ٹھوس بنیاد۔انسانی تجربہ ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ دوسروں کے ہاتھوں دکھ اور تکلیف اٹھانے اور مصائب جھیلنے والے مظلوموں کا ہمیشہ سے خصوصی استحقاق چلا آرہا ہے کہ مواخذہ کے وقت اگر چاہیں تو ظلم ڈھانے والوں کو معاف کر دیں اور ایسا نہ کرنا چاہیں تو معاف نہ کریں۔بعض مواقع پر حکومتیں قومی خوشی کے طور پر جشن مناتی ہیں۔ایسے مواقع پر یا اس سے ملتی جلتی بعض اور وجوہات کی بنا پر وہ بلا تفریق و امتیاز مجرموں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا کرتی ہیں۔ایسا خصوصی حالات کی وجہ سے کیا جاتا ہے لیکن ایسے خصوصی حالات خود اپنی ذات میں اس امر کا جواز مہیا نہیں کرتے کہ ان لوگوں سے جو بے گناہ شہریوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے اور دائمی مصائب میں مبتلا کرنے کا موجب بنتے ہیں ان سے باز پرس نہ کی جائے اور انہیں معاف کر دیا جایا کرے۔یہ بات فراموش یا نظر انداز کرنے والی نہیں ہے کہ بعض مخصوص حالات میں حکومتوں کا بلا تفریق و امتیاز سب مجرموں کے لئے معافی کا اعلان کرنا کسی نہ کسی معیار کی رو سے جائز قرار پاتا ہے۔خود مسیحی علما حکومتوں کے ایسے اعلانوں کو انصاف کے تقاضوں کے منافی نہیں سمجھتے تو پھر ایسا ہی حسن ظن وہ خدا کے متعلق روا ر کھنے کے کیوں قائل نہیں ہیں۔اور اس کے اس اختیار کو کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ اگر وہ چاہے تو خطا کاروں کو معاف بھی کر سکتا ہے۔بہر حال وہ تو سب حاکموں سے بڑا حاکم اور ہر شے کا خالق و مالک ہے۔اگر وہ کسی کا ایسا جرم معاف کر دیتا ہے جو اس نے اپنے ساتھیوں کے خلاف کیا ہو تو اس آقاؤں کے آقا اور سب مالکوں کے مالک کو یہ غیر محدود قوت و قدرت بھی حاصل ہے کہ جنہیں دکھ دیا گیا ہے ان کے ساتھ ایسے جو دوسخا کا سلوک کرے اور ایسے رنگ میں انہیں اپنے فضلوں سے نوازے کہ اس کے فیصلہ سے وہ بھی پوری طرح مطمئن ہو جائیں۔اندریں حالات اس امر کی کہاں ضرورت باقی رہتی ہے کہ وہ اپنے معصوم ” بیٹے کو قربان