مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 24
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 24 پھر یہ امر بھی غور طلب ہے کہ اگر یہ سب کچھ آدم اور حوا کے گناہ کی سزا کے طور پر ظہور میں آیا تھا تو انسان اس تحیر آمیز سوچ میں پڑے بغیر نہیں رہتا کہ کفارہ ادا ہونے کے بعد ہزاروں سال قبل مقرر کی جانے والی سزا کا کیا بنا؟ اگر مسیح نے گناہگار انسانوں کا کفارہ ادا کر دیا تھا تو کیا وہ سزا جو گناہ کی پاداش کے طور پر مقرر کی گئی تھی مسیح کے صلیب پانے کے بعد موقوف کر دی گئی ؟ جو لوگ مسیح کے خدا کا بیٹا ہونے پر ایمان لے آئے تھے ان میں سے جو عورتیں تھیں کیا انہوں نے دردوں کی تکلیف میں سے گزرے بغیر ہی بچے جننے شروع کر دیئے تھے ؟ اور اسی طرح کیا ایمان لانے والے مردوں کے لئے یہ ممکن ہوا کہ وہ جسمانی مشقت اٹھائے بغیر روزی حاصل کر سکیں؟ کیا مستقبل میں آنے والی نسلوں میں گناہ کی طرف میلان کا سلسلہ بند ہوا؟ اور ماؤں کے ہاں واقعی منزه عن الخطا معصوم بچے پیدا ہونے لگے ؟ اگر ان تمام سوالوں کا جواب اثبات میں دینا ممکن ہے تو پھر یقینا اس امر کا کچھ نہ کچھ جواز ضرور مہیا ہو جاتا ہے کہ گناہ اور کفارہ کی مسیحی فلاسفی پر سنجیدگی سے غور کیا جائے لیکن کیا کیا جائے ان سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ نہیں نہیں اور بالکل نہیں۔اگر مسیح کے مصلوب ہونے کے بعد عیسائی دنیا اور غیر عیسائی دنیا دونوں کے ہاں اس نوعیت کی کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی پھر کفارہ ادا ہونے کا مطلب کیا ہوا؟ مسیح کے مصلوب ہونے کے بعد بھی عقل عمومی روئے زمین کے تمام انسانوں کی یہی رہنمائی کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی سزا بھی اسی شخص کو ملے گی کسی اور کو ہر گز نہیں۔ضروری ہے کہ ہر شخص اور ہر عورت الغرض سب اپنے اپنے گناہوں کے نتائج خود بھگتیں۔بچے ہمیشہ ہی معصوم پیدا ہوتے ہیں۔اگر یہ سچ نہیں تو خدا کی صفت عدل رغت ربو د ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ہم مسلمان ہونے کی حیثیت میں اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ تمام آسمانی کتابیں ازلی صداقتوں پر مبنی ہوتی ہیں۔کوئی بھی اس کے بر خلاف دعوی نہیں کر سکتا۔کسی ایسی کتاب میں جس کے متعلق اس کے ماننے والوں کا دعوی یہ ہو کہ وہ خدا کی طرف سے نازل شدہ ہے جب ہمیں خامیاں یا متضاد باتیں نظر آتی ہیں تو ہم اس بارہ میں یہ رویہ اختیار نہیں کرتے کہ اسے منجانب اللہ نازل شدہ تسلیم نہ کرتے ہوئے یکسر مستر د کر دیں۔ہم محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے ہمدردانہ غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کی بہت سی باتیں اور بیانات ہمیں نیچر کی ثابت شدہ حقیقتوں سے متصادم نظر آتے ہیں تو ہم ان کتابوں کو کلی مسترد نہیں کرتے۔اول تو ہم بعض پیچیدہ و مہم عبارتوں نیز تمثیلوں اور استعاروں پر مبنی پیغامات میں طور پر