مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 15
انیت مسیح کی اصل حقیقت اور محبت کا اچھے لفظوں میں ذکر نہیں کرتا۔کیا یہ خدا یہ نہیں چاہتا کہ خود اس کا بھی محاسبہ کیا جائے ؟ لیکن محبت کرنے والا تو جزا سزا کے خیالات سے بالا ہو کر محبت کرتا ہے۔“ یہ مشرقی خدا جب حیوان تھا تو یہ بہت سخت گیر اور منتقم مزاج تھا۔اس نے اپنے پسندیدہ لوگوں کی خوشی کی خاطر خود ایک جہنم تیار کی۔“ لیکن آخر کار وہ خدا بوڑھا ہو گیا اور اس عمر میں وہ باپ سے زیادہ ایک دادا کے مانند بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک لڑکھڑاتی اور ہپاتی بوڑھی دادی کی طرح بہت نرم خو ، شیریں و دلکش اور محبت کرنے والا بن گیا۔“ ” پھر وہ خدا اپنے کمرے کی چمنی کے ایک کو نہ میں جرمر اور حلوہ حریسہ ہو کر بیٹھ رہا اور اپنی کمزور ٹانگوں پر اپنے آپ کو سنبھالے بیٹھا جھنجھلا تارہا۔وہ دنیا اور اس کے کاروبار سے تھک ہار کر اس حال کو پہنچا تھا اور اپنی مرضی چلانے سے اکتا چکا تھا اور پھر آخر ایک دن اپنے حد سے زیادہ بڑھے ہوئے رحم کے ہاتھوں دم گھٹنے سے مر گیا۔“ 15 1 (Thus Spoke Zarathustra by Friedrich Nietzsche p۔271-273۔Translation published by Penguin Books (1969) 1969 - ترجمہ شائع کردہ پنگوئن بکس 2716273( " زرتشت یوں گویا ہوا" مصنفہ فریڈرک نطشے، صفحات