مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 3
3 انیت صحیح کی اصل حقیقت پورے منصوبے کو خدا نے ایسی عمدگی، حسن و خوبی اور پر حکمت انداز میں وضع کیا ہے کہ افزائش نسل کی سطح پر آتے ہی زندگی کو جنم دینے والے خلیوں میں کروموسومز کی تعداد یک دم نصف ہو جاتی ہے۔یعنی بیضہ مادر میں کروموسومز کی تعداد 23 تک محدود رہتی ہے اور اسی طرح باپ کے نطفہ میں بھی ان کی تعداد 23 سے آگے نہیں بڑھنے پاتی۔اس لحاظ سے باقتضائے معقولیت توقع کے رنگ میں باور کیا جاسکتا ہے کہ نوزائیدہ بچہ میں تو راثی خصائل کے حامل آدھے عناصر (Genes) ماں کی طرف سے مہیا ہوتے ہیں اور آدھے مر د شریک حیات کی طرف سے۔ثابت شدہ سائنسی حقائق کے رُو سے یہ ہیں معنے اصلی اور حقیقی بیٹا ہونے کے۔حقیقی بیٹا ہونے کی کوئی اور تعریف ایسی نہیں ہے جسے انسانی پیدائش پر چسپاں کیا جاسکتا ہو۔اس میں شک نہیں کہ رد عمل آنے اور طریق کار کے انداز میں کسی قدر تبدیلی یا اختلاف کی گنجائش تو ہوتی ہے لیکن قدرت کے وضع کردہ جن اُصولوں اور قواعد وضوابط کا سطور بالا میں ذکر کیا گیا ہے ان میں کسی استثنا کی گنجائش نہیں ہے۔اپنی توجہ کو مسیح کی پیدائش کے واقعہ پر ہی مرکوز رکھتے ہوئے ہم اس امر کو ذرا تصور میں لاتے ہیں کہ مسیح کی ذات کے معرض وجود میں آنے کے سلسلہ میں واقعہ ہوا کیا ہو گا اور پھر تصور میں آنے والے ممکنات کی بنا پر ایک خیالی منظر نامہ کا خاکہ تیار کرتے ہیں۔پہلا امکان جسے سائنسی بنیادوں پر زیر غور لایا جاسکتا ہے یہ ہو سکتا ہے کہ مریم کے غیر زرخیز شدہ افزائشی جرثومہ یا بیضه تولید نے بچہ بننے والے لو تھڑے یا بالفاظ دیگر جنین کی تیاری میں ماں کے حصہ کے طور پر 23 کروموسومز مہیا کر دیئے ہوں گے۔اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ایسا ہو ا ہو گا تو سوال یہ پید اہو گا کہ بیضہ مادر میں زرخیزی کیسے پیدا ہوئی؟ اور اس زرخیزی کو ممکن بنانے کے لئے لازمی اور اہم بقیہ 23 کروموسومز کہاں سے آئے؟ یہ کہنا یا فرض کرنا ناممکنات میں سے ہے کہ مسیح کے جسمانی خلیوں میں صرف 23 ہی کروموسومز کہاں سے آئے؟ یہ کہنا یا فرض کرنا ناممکنات میں سے ہے کہ مسیح کے جسمانی خلیوں میں صرف 23 ہی کروموسومز تھے۔23 کا عدد تو کروموسومز کی اصل تعداد کا ہے ہی نصف اس کا تو ذکر ہی کیا کوئی انسانی بچہ 45 کروموسومز کے ساتھ بھی زندہ پیدا نہیں ہو سکتا؟ اگر کسی انسان کو 46 کروموسومز میں سے ( جن کا انسانی جسم کی ساخت اور بناوٹ کے لئے موجود ہونا لازمی اور ضروری ہے) صرف ایک کروموسوم سے محروم کر دیا جائے تو اس کے جسم میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل ظاہر ہونے سے اس کا جو حشر ہو گا اس کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔یہ ظاہر ہے کہ مریم اکیلی 46 کے 46 کروموسومز مہیا نہیں کر سکتی تھی۔ضروری تھا کہ 23 کروموسومز کہیں اور سے آتے۔