مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 2

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک تفاصیل کے ساتھ بہت باریکیوں کا حامل ہے۔جو لوگ اب بھی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ خدا خود اپنے وجود سے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو جنم دے سکتا ہے ان کا اس بارہ میں بہت ہی گھمبیر اور پیچیدہ مسائل سے دو چار ہو نانا گزیر ہے۔اور ان پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے سوالات کا حل پیش کریں اور نت نئے اشکال دور کر کے دکھائیں۔ماں باپ بننے کی سائنسی بنیاد اولاً تو اس امر کو ذہن میں مستحضر رکھنا ضروری ہے کہ ایک بچہ کو معرض وجود میں لانے کا ذریعہ بننے میں ماں اور باپ دونوں کو اس پورے عمل میں مساوی حیثیت سے شریک ہونا اور حصہ دار بنا پڑتا ہے۔انسانی جسم کے خلیوں (Cells) میں بعض مخصوص نوعیت کے بنیادی اجزاء ہوتے ہیں جو کروموسومز (Chromosomes) کہلاتے ہیں۔ان کی تعداد 46 ہوتی ہے۔ان کروموسومز نے تواثری عنصر یا جینز (Genes) کو اپنے اندر سنبھالا ہوا ہوتا ہے۔یہ تو اثری عصر انسانی کردار کو تشکیل دینے والے موروثی خصائل کا حامل ہوتا ہے اور یہ ہوتا بھی ہے انتہائی مہین اور باریک دھاگوں کی شکل میں۔اسی عصر کے ذریعہ موروثی خصائل اگلی نسل میں منتقل ہوتے ہیں۔قدرت نے ایسا انتظام کیا ہے کہ جب انسانی ماں کا افزائشی جرثومه یا بیضه تولید تشکیل پاتا ہے تو تمام دوسرے خلیوں کے برخلاف اس میں پورے 46 کروموسومز نہیں ہوتے۔اس میں ان کی تعداد صرف 23 ہوتی ہے۔سو گو یا بیضہ مادر میں جو کروموسومز ہوتے ہیں وہ ہر آدمی اور ہر عورت کے خلیوں میں موجود 46 کروموسومز کا نصف ہوتے ہیں۔جب مرد کے ساتھ ملاپ کے نتیجہ میں مرد کا نطفہ بیضئہ مادر میں جاشامل ہوتا ہے اور بیضہ مادر تخم کے طور پر اسے اپنے اندر قبول کر لیتا ہے تو مرد کا نطفہ بقیہ 23 کروموسومز کی کمی کو پورا کر کے بیضہ مادر میں کروموسومز کی تعداد کو 46 کر دیتا ہے۔دونوں کے تئیں تئیس کروموسومز کے باہم ملنے سے بیضہ مادر میں زرخیزی پیدا ہو جاتی ہے اور بچہ بننے کی اہلیت سے وہ ہمکنار ہو جاتا ہے۔بیٹے کی شکل میں ایک نئے وجود کے پیدا ہونے کا یہ ہے خدائی منصوبہ۔اگر خدا ایسا نظام وضع نہ کرتا تو ہر نئی نسل کی پیدائش میں کروموسومز کی تعد اپہلے سے دو گنا ہوتی چلی جاتی یعنی دوسری نسل میں 46 کی بجائے 92 کروموسومز ہوتے اور نتیجہ نسل در نسل ہوتے ہوتے انسان دیو ہیکل وجود میں تبدیل ہوتے چلے جاتے۔الل ٹپ اور بے حساب نمو پانے، بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا یہ سلسلہ بے قابو ہو کر نہ جانے تباہی و بربادی کی شکل میں کیا گل کھلاتا۔بقائے نوع انسانی کے 2