مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 170

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک مریں گے اور کوئی ان میں سے عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر ان کی اولا د جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر اولاد کی اولاد مرے گیاور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسی علیہ السلام اب تک آسمان سے نہ اترا۔تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہو گی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بد ظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑ دیں گے۔“ (تذکرة الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 ص67) 170 پس آپ لوگ انتظار کریں یہاں تک کہ ایک نئی نسل پیدا ہو جائے۔اور اس نئی نسل کے لوگ ابھی انتظار کریں گے تاکہ آنکہ ان کی حیات کا عرصہ بھی پورا ہو جائے گا اور ایک نئی نسل ان کی جگہ لے لے گی۔انتظار کی یہ کیفیت چاہے دنیا کے اختتام تک جاری رہے آسمان سے کوئی صحیح جسمانی طور پر نازل نہیں ہو گا۔وہ کتنی ہی تمنا کریں اس کی شخصی اور جسمانی واپسی کی لیکن ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔وہ بھی اپنے لئے ایک دیوار گریہ بنالیں جیسے کہ یہود نے تین ہزار سال پہلے ایک دیوار گریہ بنائی تھی لیکن جو چھ یہود کے معاملہ میں ہوا اب بھی وہی ہو گا۔ان کے مسلسل یعنی نسلاً بعد نسل گریہ وزاری کرنے اور انتظار کی اذیت اٹھاتے چلے جانے کے باوجود وہ کسی مسیح کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھیں گے۔مستقبل میں مسیح کی آمد کے متعلق امیدوں اور توقعات کے وہ خواہ کتنے ہی ہوائی قلعے کیوں نہ تعمیر کریں کبھی ختم نہ ہونے والی خلا اور جوف غیر مختتم کے سوا ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ان مسیحیوں کے لئے جو پوری سنجیدگی کے ساتھ مسیح کو خدا کا حقیقی بیٹا یقین کرتے ہیں ہم اس بحث کا اختتام قرآن مجید کے اس انذار پر کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَيُنْذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا - مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِأَبَائِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْان يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا (الكهف:6،5)