مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 168

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 168 کی سنت قدیمہ کے مطابق جسمانی طور پر نہیں بلکہ روحانی طور پر آنا تھا۔یعنی اسی خو بو ، انہیں اوصاف اور اسی امتیازی کردار کے ساتھ ایک دوسرے وجود کے طور پر آنا تھا۔چنانچہ یہی کچھ ہوا اور ظہور میں آیا ہے۔دنیا میں انقلاب برپا کرنے والی مقدس ہستیاں غیر معروف اور عاجز انسانوں کی طرح ہی پیدا ہوتی ہیں اور عاجزانہ زندگی بسر کرتی ہیں۔ایسے مقدس لوگ دوبارہ دنیا میں آتے ہیں لیکن آتے ہیں روحانی طور پر البتہ آتے ہیں اسی پہلے والے انداز سے اور پھر ان کے ساتھ وہی کچھ ہوتا ہے جو پہلے ہوا تھا۔دنیا ویسی ہی درشتی، قساوت قلبی، عصبیت اور جنون کی حد کو پہنچی ہوئی دشمنی کا مظاہرہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی۔انہیں کبھی آسانی سے شناخت نہیں کیا جاتا کہ یہ انہیں کے نمائندہ ہیں جنہوں نے ان کی دوبارہ آمد کا وعدہ کے رنگ میں ذکر کیا تھا۔اپنی بعثت اولی میں مسیح کو یہودیوں کی طرف سے جس سلوک کا سامنا کرنا پڑا تھا لازمی طور پر وہی سلوک اس کے ساتھ اس کی آمد ثانی کے وقت ہو نا تھا۔لیکن اس دفعہ ہو نا تھا مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کی طرف سے کیونکہ دونوں ہی اس کا انتظار کر رہے تھے۔اس کو اپنے دوبارہ آنے سے متعلق دونوں کی سراسر لا یعنی اور غیر حقیقی تو قعات کا سامنا کرنا تھا۔دنیوی کامیابیوں کے انہیں خیالی مقاصد کے حصول کی تمناؤں سے اس کا واسطہ پڑنا کرنا تھا، اور خود اپنے بارہ میں انہی غیر حقیقی کارناموں کی انجام دہی کے نرالے نظریات سے اس کو دو چار ہونا تھا جن کا مظاہرہ یہودیوں نے یسوع مسیح کی بعثت کے وقت کیا تھا۔بعثت ثانیہ کے وقت مسلمانوں اور عیسائیوں نے اسی کردار کا اعادہ کرنا تھا۔یہ امر مقدر تھا کہ تاریخ اپنے آپ کو بعینہ پھر اسی طرح دہرائے۔پیچھے مڑ کر دیکھنے اور تاریخ کے گزرے ہوئے اس دور میں جھانکنے سے اس امر کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ یہودی اپنے مسیح کو شناخت کرنے میں کیوں ناکام رہے تھے۔ہم ان کی مشکل کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں اور ان کے المیہ سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔صحائف کی لفظی اور یکسر سطحی تفہیم نے انہیں گمراہ کیا۔ان سب باتوں پر پہلے گفتگو ہو چکی ہے لیکن اس مسئلہ پر زور دینے کی خاطر ہم اس کا دوبارہ حوالہ دیناضروری سمجھتے ہیں۔تاریخ شاہد ہے کہ متوقع مذہبی مصلحین کے بارہ میں ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ اکثر لوگ انہیں شناخت کرنے میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ ان کی نشانیوں کو غلط رنگ میں لیا جاتا ہے اور ان کے غلط معنی نکالے جاتے ہیں۔حقیقتوں کو کہانیوں کا درجہ دے دیا جاتا ہے اور استعاروں کے اصل مفہوم سے صرف نظر کر کے انہیں ظاہری الفاظ تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے۔