مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 167
167 مسیحیت آج کے دور میں ظیم الشان کام پر مامور کیا جاتا ہے۔جہاں تک مسیح کا تعلق ہے اس کے سپر د جو کام کیا گیا تھا وہ اور ابھی زیادہ مشکل تھا کیونکہ اس نے معاشرہ میں عام پائی جانے والی برائیوں اور بدیوں کے خلاف زبر دست اصلاحی مہم کا ہی آغاز نہیں کرنا تھا بلکہ اس نے یہودی قوم کے رویہ ، رجحان اور طرزِ عمل میں ایک بنیادی تبدیلی لانا تھی۔جیسا کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ ہوتا ہے وہ زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ صداقت کے راستہ سے ہٹنے لگتے ہیں حتی کہ گمراہی و ضلالت اور گناہ کے ویرانہ میں بھٹکنا شروع کر دیتے ہیں۔یہودی قوم کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔مسیح کے مبعوث ہونے تک وہ حقیقی معنوں میں روحانی طور پر مردہ ہو چکے تھے۔روحانی زندگی کا پانی جزر کی حالت اختیار کر کے کم ہوتے ہوتے بالکل معدوم ہو گیا تھا حتی کہ وہ پورے طور پر پتھر دل بن گئے تھے۔مسیح کے سپر د جو کام کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ وہ ان پتھر دلوں کو روحانی طور پر دوبارہ دھڑکتے ہوئے انسانی دلوں میں تبدیل کر کے انہیں اس قابل بنادے کہ ان میں سے ہمدردی کے چشمے پھوٹنے لگیں۔یہ وہ عظیم معجزہ تھا جو مسیح کے ذریعہ رونما ہوا اور اس معجزہ میں ہی اس کی عظمت پنہاں ہے۔آج دنیائے اسلام اور دنیائے عیسائیت مشترکہ طور پر مسیح کی آمد ثانی کا انتظار کر رہی ہیں۔مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کو یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جس مسیح کا اس آخری زمانہ میں آنا مقدر تھا اس نے اپنی خوبو، اوصاف و کر دار اور مقصد بعثت کی امتیازی شان کے لحاظ سے لازمی طور پر اسی طرح اور انداز کا مسیح ہونا تھا جیسا مسیح پہلے مبعوث ہوا تھا۔تاہم بانی اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق اس مسیح نے اپنی بعثت ثانیہ کے وقت دنیائے عیسائیت میں نہیں بلکہ دنیائے اسلام میں مبعوث ہونا تھا بایں ہمہ جو عظیم معجزہ اس نے دکھانا تھا وہ وہی تھا جو اس نے اپنی پہلی بعثت کے وقت دکھایا تھا لیکن اس مرتبہ اس کے سپر د ہونا تھا آخری زمانہ کے مسلمانوں کے دلوں کو بدلنے کا کام۔اس کی بعثت ثانیہ کے مقصد کی اس تفہیم کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض دوسری احادیث سے بھی ہوتی ہے۔آپ صلی ا ہم نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں مسلمانوں کی حالت بگڑے ہوئے زمانہ کے یہودیوں کی حالت سے اس درجہ مشابہ و مماثل ہو گی کہ جس طرح جو تیوں کے جوڑے کی ایک جوتی دوسری جوتی کے عین مشابہ ہوتی ہے۔پس اگر پہلے جیسی بیماری ہی لاحق ہونا تھی تو علاج بھی بعینہ پہلے جیسا ہی ہونا تھا۔مراد یہ کہ مسیح کو واپس آنا تھا اسی عاجزانہ طریق کے مطابق جس عاجزانہ طریق کے مطابق وہ پہلے آیا تھا لیکن اس بار بھی اللہ تعالیٰ