مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 166

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 166 دے ڈالا۔مگر یاد رکھیے ان میں سے کبھی کسی ایک نے بھی قدرت کے نظام کو چلانے میں کسی قسم کا کوئی کر دار ادا کرنے کا مظاہرہ نہیں کیا۔ہمیشہ سے ایک ہی ہاتھ قوانین قدرت پر حکمرانی کرتا چلا آرہا ہے۔آسمانوں اور قوانین کے آئینہ میں ہر سطح پر صرف اور صرف ایک خدا کا چہرہ منعکس ہو کر اپنی جلوہ نمائی کر رہا ہے۔قرآن مجید کہتا ہے: وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا- لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِذَا تَكَادُ السَّمَوَاتُ يَتَفَكَّرْتَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَتَخِرُ الْجِبَالُ هَذَا أَن دَعَوُا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا - وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا۔(مریم:89-93) ترجمہ : اور یہ (لوگ) کہتے ہیں کہ (خدائے ) رحمان نے بیٹا بنالیا ہے۔( تو کہہ دے) تم ایک بڑی سخت بات کہہ رہے ہو۔قریب ہے کہ (تمہاری بات سے ) آسمان پھٹ کر گر جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر (زمین پر) جاپڑیں اس لئے کہ ان لوگوں نے (خدائے) رحمان کا بیٹا قرار دیا ہے۔اختتامی الفاظ جہاں تک تحقیق و تدقیق کا تعلق ہے ہم نے اپنی طرف سے اس کا حق ادا کرنے میں پوری دیانتداری اور انصاف سے کام لیا ہے لیکن قبل اس کے کہ ہم اس بحث کو یہیں لپیٹ دیں ہم عیسائی دنیا سے بڑے خلوص کے ساتھ پر زور اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ زندگی کے ٹھوس حقائق کا سامنا کرنے کے لئے اپنے گھڑے ہوئے بناوٹی عقیدہ کے گنبد بے در یا تنہائی کے خول سے باہر نکلیں۔یسوع مسیح اپنے دور اور زمانہ کے لحاظ سے بہر طور ایک کامل انسان تھا، انسان سے بڑھ کر کچھ اور نہ تھا۔وہ خدا کے ایک خاص پیغمبر کی حیثیت سے جسے مسیح کے لقب سے ملقب کیا گیا تھا ان رفعتوں تک پہنچا جن تک پہنچنا اس کے لئے مقدر تھا۔ان رفعتوں نے اسے موسی علیہ السلام سے لے کر اپنی بعثت تک کے درمیانی زمانہ کے تمام نبیوں میں ایک لاثانی مقام کا حامل بنادیا۔یقیناً ہر نبی کے سپر د ایک بہت مشکل کام کیا جاتا ہے اور ایک اہم مشن اسے سر انجام دینا ہو تا ہے۔اسے مکمل طور پر بگڑے ہوئے اور قسم ہا قسم کی برائیوں میں ملوث انسانوں کی اصلاح کے اہم اور