مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 164

وجہ سے ساری دنیا میں تعریف کی جاتی ہے۔مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 164 ایک قاری شاید محسوس کرے کہ ہم جماعت احمدیہ کے اس تفصیلی ذکر کی وجہ سے ایک ایسی سمت کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں جس کا موضوع زیر بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں نہایت ادب سے عرض کروں گا کہ اگر کسی قاری کو ایسا گمان گزرتا ہے تو اصل نکتہ تک اس کی رسائی نہیں ہو سکی اس بحث کے ربط کو یسوع مسیح کے ایک ارشاد کی روشنی میں بخوبی سمجھا جاسکتا ہے اور وہ ارشاد یہ ہے۔درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔یا تو درخت کو بھی اچھا کہو اور اس کے پھل کو بھی اچھا، یا درخت کو بھی برا کہو اور اس کے پھل کو بھی برا، کیونکہ درخت پھل ہی سے پہچانا جاتا ہے۔“ (متی باب 12 آیت 33) آج اگر کوئی حضرت مرزا غلام احمد کے دعوی کی صداقت کو پر کھنا چاہتا ہے تو بہترین اور سب سے زیادہ قابل اعتماد و یقین معیار صداقت یہی ہے کہ دیکھا جائے کہ اس درخت کا پھل کیسا ہے ؟ اس معیار کے رو سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آیا آپ ہی وہ موعود مسیح ہیں جس کے آنے کی پیش گوئی نہ صرف خود یسوع مسیح نے کی تھی بلکہ مقدس بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جس کے ظہور کی بشارت سے نوازا تھا۔یہ معلوم کرنے کی کوشش کرنا کہ آپ نے کس قسم کے پیرو پیدا کئے اور گزشتہ ایک صدی نے ان پر کیا اثر ڈالا ہے بہت مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوئے بغیر نہ رہے گا سوال یہ بھی پیدا ہو گا کہ کیا زمانہ کے لوگوں نے ان کے ساتھ ویسا سلوک کیا ہے جیسا کہ پہلی صدی عیسوی میں یسوع مسیح کے ماننے والوں کے ساتھ کیا گیا تھا؟ پھر یہ سوال بھی ضرور ابھر کر سامنے آئے گا کہ جب آپ کو اور آپ کی جماعت کو صفحہ ہستی سے نابود کرنے کی کوششیں کی جارہی تھیں تو آپ کے ساتھ خدا کا سلوک کیسا تھا؟ کیا خدا کا سلوک آپ کی مظلوم جماعت کے حق میں تھا یا کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ خدا کا سلوک آپ کی جماعت کے خلاف تھا؟ کیا حضرت مرزا غلام احمد کے ماننے والوں نے ابتدائی مسیحیوں کی طرح تمام نامساعد حالات اور مشکلات و مصائب کے دوران خدا کی زبر دست تائید و نصرت کو اپنے حق میں نازل ہوتے مشاہدہ کیا؟ اگر ایسا ہوا کہ جب بھی انہیں مصائب و شدائد کی چکی میں پیسا گیا تو پیسے جانے اور سفوف میں تبدیل کیے جانے کی بجائے وہ اس میں سے اور ابھی زیادہ تعداد میں اور پہلے سے بھی بڑھ کر طاقتور بن کر نکلے اور دنیا کے سامنے اور زیادہ نمایاں ہو کر آئے اور زیادہ معزز ٹھہرائے گئے تو پھر یقیناً ایسے مدعی کے دعوی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز