مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 160
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 160 کے مضبوط و مستحکم ایمان کو مزید جلا بخشی۔آپ انسانی مسائل کی گہرائی تک قرآن کی رسائی اور ان کے انتہائی شافی اور کافی حل سے بے حد مسرور ہوئے۔آپ نے محسوس کیا کہ اسلام انسان کی عادات واطوار اور چال چلن و کردار کی اصلاح کے لئے لائحہ عمل پیش کرنے میں ازراہ تحکیم ہدایات دینے پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ ان ہدایات کی حکمت واضح کرنے کے لئے نہایت مضبوط منطقی دلائل بھی دیتا چلا جاتا ہے اور وہ دلائل بھی ایسے ہیں جو اس امر کی واقعات اور عملی شہادت کی تائید کے حامل ہیں کہ کسی بھی موضوعی پر صورت حال اور اس کے سیاق و سباق میں اسلام کا تجویز کردہ لائحہ عمل ہی موقع محل کے مطابق ہونے کے باعث بہترین راہ عمل ثابت ہوتا ہے اور یہ کہ کوئی اور لائحہ عمل اس کا متبادل ہو ہی نہیں سکتا۔اس کد و کاوش اور انتھک جدوجہد کے نتیجہ میں آپ نے اسلام کا جو اس وقت بالکل بے یار و مددگار نظر آتا تھا اس شان سے دفاع کیا کہ آپ اسلام کے بطل جلیل اور فتح نصیب جرنیل ثابت ہوئے بغیر نہ رہے۔اس طرح اس کڑے وقت میں آپ نے ہندوستان میں دفاع اسلام کے انتہائی اہم تقاضوں کو کمال حسن و خوبی اور مہارت سے پورا کر دکھایا۔آپ نے ملکی اور قومی سطح پر اسلام کی خدمت کا آغاز نسبتاً چھوٹے حلقہ میں بحث مباحثوں اور مناظروں کے انعقاد سے کیا۔پھر یہ جد و جہد وسیع تر حلقوں تک ممتد ہوتی چلی گئی۔چنانچہ اسلام کے دفاع میں سب سے زیادہ پیش پیش رہنے والے اور غایت درجہ اہل اور طاقتور و جری مرد میدان کی حیثیت سے دور دور تک آپ کی شہرت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا۔اسی زمانہ میں آپ نے ادب عالیہ کے انداز کی عظیم ترین مذہبی تصنیف کے ایک طویل سلسلہ کا آغاز کیا۔آپ کی اس زیر تصنیف کتاب براہین احمدیہ کے متعلق آپ کا منصوبہ یہ تھا کہ آپ اسے پچاس جلدوں میں پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے لیکن آپ اس کی پہلی پانچ جلد میں ہی شائع کر سکے۔دریں اثنا بہت سے ہنگامہ خیز واقعات کی طرف آپ کو متوجہ ہونا پڑا۔اس کے بعد آپ کے لئے ممکن نہ رہا کہ آپ اس نہایت گہرے اور وقیع علمی کام کو اس کے انجام تک پہنچا سکیں۔تاہم بعد ازاں آپ نے ضرورت وقت کے تقاضوں کے پیش نظر بہت سی دوسری کتب تصنیف فرمائیں۔آپ کی یہ کتابیں ان پورے اور مکمل مضامین پر مشتمل تھیں جن کا آپ اپنی ابتدائی تصنیف میں احاطہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے بلکہ اور بہت سے دیگر مضامین بھی ان کتب میں بیان ہوتے چلے گئے۔حقیقت یہ ہے کہ آپ نے نہ صرف اپنے وعدہ کو پورا کیا بلکہ اسلام کی تائید و حمایت میں وعدوں سے بڑھ کر تصنیفی کام کر دکھایا اگر چہ ابتداء امقرر کردہ نام اور عنوان میں تبدیلی