مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 159

159 مسیحیت آج کے دور میں کتب کے زیر مطالعہ رکھنے میں گزرتا تھا۔آپ ایک ایسے شخص کی طرح زندگی گزار رہے تھے کہ جس کی دنیا اور دنیوی مشاغل سے قریباً کوئی تعلق باقی نہ رہا تھا حتی کہ آپ کو اس چھوٹے سے قصبہ میں بھی جہاں آپ پیدا ہوئے تھے کوئی نہ جانتا تھا۔پھر یوں ہوا کہ رفتہ رفتہ آپ ہندوستان کے مذہبی افق پر اسلام کے بطل جلیل اور فتح نصیب جرنیل کی حیثیت سے ابھر ناشروع ہوئے اور ایک پاک باز اور مقدس و مطہر انسان کی حیثیت سے آپ کی شہرت پھیلنے لگی اور اس شہرت میں تیزی سے اضافہ ہوتا چلا گیا حتی کہ صرف مسلمانوں میں ہی آپ کو عزت و احترام کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آپ کا احترام کرنے اور آپ کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔لوگ بالعموم یہ محسوس کرنے لگے کہ آپ ایک ایسے مرد خدا ہیں جس کا خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق ہے اور خد ا جس سے ہم کلام ہو تا ہے۔جس کی دعاؤں کو وہ سنتا ہے اور ان دعاؤں کے جواب سے جس کو وہ نوازتا ہے اور یہ کہ نوع انسان کے دکھوں کے ازالہ کے لیے جس کی پر خلوص تڑپ ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہے۔بد قسمتی سے اس زمانہ میں اسلام ہندوستان میں بہت قابل رحم حالت میں تھا۔عیسائی مشنریوں نے اسے اپنے تابڑ توڑ حملوں کا نشانہ بنایا ہوا تھا اور سلطنت برطانیہ کے طے شدہ اصولی طرز عمل کے مطابق انہوں نے نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف بلکہ مقدس بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھی ایک دل خراش و جگر پاش مہم کا آغاز کر رکھا تھا۔مزید بر آں ہندوستان کے سب سے با اثر مذہب ہندومت میں بھی دو مقاصد کے پیش نظر انتہائی پر جوش و پر ولولہ تحریکیں سر اٹھا رہی تھیں۔ان کا ایک مقصد تو ہندو ثقافت اور تہذیبی و تمدنی روایات کا از سر نو احیا تھا اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کی سر زمین سے اسلام یہ اور مسلمانوں کا صفایا کر دیا جائے۔وہ تحریکیں اسلام اور مسلمانوں کی تصویر کشی اس رنگ میں کر رہی تھیں کہ گویا ہندوستان میں باہر سے آوارد ہونے والے ناقابل برداشت اجنبی ہیں اور انہیں اس سر زمین میں جڑ پکڑنے اور یہاں پھلنے پھولنے حتی کہ قائم رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ان میں سے سب سے زیادہ جارحانہ تحریک آریہ سماج کی تحریک تھی۔جس کی بنیاد پنڈت سوامی دیانند سرسوتی (1824ء تا 1883ء) نے 1875ء میں ڈالی تھی۔حضرت مرزا غلام احمد کے لئے شاید یہ صورت حال مزید محرک ثابت ہوئی اس امر کی کہ آپ دفاع اسلام کی غرض سے مذاہب کے تقابلی مطالعہ اور اس بارہ میں تحقیق و تدقیق کی طرف خاص توجہ دیں۔اس وسیع مطالعہ اور تحقیق و تدقیق نے اسلامی تعلیمات کی حقانیت اور برتری و بالا دستی پر آپ