مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 158
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 158 کریں جیسا کہ خود مسیح نے الیاس کی آمد ثانی کے بارہ میں اس کے برنگ استعارہ پورا ہونے کا ذکر کیا ہے۔اس سے یہ امر ظاہر ہو جاتا ہے کہ جو لوگ مسیح کے لفظی معنوں میں آسمان سے نازل ہونے کے منتظر ہیں انہوں نے اپنے اور مسیح کی اصل حقیقت کے درمیان ایک رکاوٹ حائل کر دی ہے۔اگر مسیح دوبارہ آئے گا تو اپنے سے پہلے آنے والے تمام مقدس مصلحین کی طرح ایک انسان کے طور پر ہی آئے گا۔اگر وہ ایک عاجز انسان کے روپ میں آج آجاتا ہے اور ایک ایسی سر زمین میں پیدا ہوتا ہے جو فلسطین میں واقع یہودیہ کی سر زمین جیسی ہے اور اسے اس امر پر مامور کیا جاتا ہے کہ وہی کردار پھر ادا کرے جو اس نے اپنی پہلی بعثت کے وقت ادا کیا تھا تو کیا اس بار اس نئی سر زمین کے رہنے والے اس کے ساتھ ایسے طریق اور انداز کا سلوک کریں گے جو اس طریق اور انداز کے سلوک سے مختلف ہو گا جو اس کے ساتھ پہلے یہودیہ میں روار کھا گیا تھا؟ بعثت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے ایمان اور یقین کی رو سے مسیح کی آمد ثانی کی اصل حقیقت وہی ہے جسے ہم نے اوپر بیان کیا۔ٹھیک آج سے ایک سو سال قبل کی بات ہے کہ خدا کے ایک عاجز بندہ کو جس کا نام مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہے خدا کی طرف سے بتایا گیا کہ مریم کا بیٹا مسیح ناصری جس کے بجنسہ آمد ثانی کا عیسائی اور مسلمان دونوں یکساں طور پر انتظار کر رہے ہیں خدا کا ایک خاص نبی تھا، تمام دوسرے نبیوں کی طرح وہ بھی وفات پاچکا ہے۔مرزا غلام احمد صاحب نے اعلان کیا کہ یسوع جسمانی طور پر زندہ نہیں ہے اور نہ اسے کبھی جسمانی طور پر آسمان پر واقع کسی جگہ اٹھایا گیا کہ جہاں قیام کر کے وہ زمین پر دوبارہ نازل ہونے کا انتظار کرے۔وہ تمام دوسرے نبیوں کی طرح وفات پا گیا تھا، وہ صرف خدا کا ایک نبی تھا، اس سے بڑھ کر اسے کوئی اور درجہ یا مقام حاصل نہیں تھا۔آپ کو منجانب اللہ بتایا گیا کہ مسیح کی آمد ثانی (جس کے عیسائی اور مسلمان یکساں طور پر انتظار کر رہے ہیں) سے مراد اس کی روحانی آمد ہے نہ کہ جسمانی آمد۔پھر خدا نے آپ پر یہ بھی انکشاف فرمایا کہ خدا نے آمد ثانی کی پیشگوئی کو پورا کرنے کی غرض سے اس آخری زمانہ میں آپ کو مسیح بنا کر بھیجا ہے۔مرزا غلام احمد صاحب کا پنجاب کے ایک معزز گھرانے سے تعلق تھا۔آپ کے خاندان کی تمام تر جد و جہد خاندان کی دولت اور عزت و وجاہت کو بڑھانے اور اضافہ کرنے کے لئے وقف تھی۔آپ نے اپنے آپ کو اس دوڑ دھوپ اور عام دنیوی مشاغل سے دور رکھا۔آپ کا اکثر وقت اللہ تعالی کی عبادت کرنے یا مذ ہبی