مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 151

151 مسیحیت آج کے دور میں کبھی شر مندہ تعبیر نہیں ہوتے۔مندرجہ بالا تصریح سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ہم جس مسیحیت کی بات کر رہے ہیں وہ یسوع مسیح کی سکھائی ہوئی مسیحیت سے کس قدر مختلف ہے۔مغربی ثقافت کو مسیحیت سمجھنا یا قرار دینا بالبداہت غلط ہے۔مروجہ مسیحیت اور اس کے مختلف شعبوں کو مسیح کی طرف منسوب کرنا اس کی کھلی کھلی تو ہین کے مترادف ہے۔یقیناً ہر قاعدہ قانون میں استثنا کی گنجائش ہوتی ہے۔انسانوں کے کسی بڑے گروپ یا سوسائٹی پر کسی وضاحتی بیان کو اس کی پوری تفاصیل کے ساتھ چسپاں کرنا ممکن نہیں ہوا کرتا۔بلاشبہ دنیائے عیسائیت میں زندگی اور امید کے حامل انفرادی نوعیت کے بعض چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی ملتے ہیں جہاں مسیحیت محبت اور قربانی و ایثار کے اصولوں پر فی الحقیقت عمل کیا جاتا ہے۔لیکن یہ وہ نھے منھے جزیرے ہیں جن کے گرد بے دینی، بے عملی اور بد قماشی کے سمندر ٹھاٹھیں مار رہے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ ان کے کناروں میں کٹاؤ ڈال ڈال کر انہیں اپنے اندر ہڑپ کرتے جارہے ہیں۔اگر دنیائے عیسائیت میں کہیں کہیں ایک دوسرے سے بہت دور فاصلہ پر واقع ہیروں جیسی چمک دکھانے والے یہ چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی (جن میں مسیحیت پر اس کی اصل روح کے ساتھ عمل کیا جاتا ہے ) نہ ہوں تو مغرب کا افق مکمل تاریکی کی لپیٹ میں آجائے۔اس رہی سہی اور بچی کھچی مسیحیت کے بغیر مغربی تہذیب میں فی ذاتہ روشنی کی کوئی رمق بھی موجود نہیں ہے۔لیکن افسوس ! اب یہ مدھم روشنی بھی مدھم تر بلکہ معدوم ہوتی جارہی ہے۔دنیائے عیسائیت کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ مسیح کی اصل حقیقت کی طرف واپس لوٹے اور وہ اپنی بکھر نے اور تتر بتر ہونے والی شناخت اور باطنی منافقت سے پیچھا چھڑانے اور اس طرح روحانی طور پر شفایاب ہونے کی کوشش کرے۔دیو مالائی قصے کہانیوں اور ماورائی داستانوں کی خیالی دنیا میں زندگی بسر کرنا اور کرتے چلے جانا مہیب خطرات میں گھرتے چلے جانے کے مترادف ہے۔ہماری اس کوشش اور کاوش کا مقصد یہی ہے کہ ہم دنیائے عیسائیت کو ان حقیقی خطرات سے آگاہ کریں جو عقیدہ اور عمل کے مابین پائی جانے والی خلیج کے وسیع اور وسیع تر ہوتے چلے جانے کی وجہ سے مسلسل بڑھتے چلے جارہے ہیں۔دیو مالائی کہانیاں اس وقت تک ہی حسین لگتی ہیں جب تک وہ معاشرہ کے نچلے طبقوں کو مذہبی پیشوائیت کے نظام کے تابع رکھنے میں ممد ثابت ہو رہی ہوتی ہیں۔انہیں قابو میں رکھنے والا یہ نظام ان کی جہالت سے فائدہ اٹھا کر انہیں سحر آفریں، سراسر غیر حقیقی روحانیت کے نشہ میں مدہوش بنائے رکھتا ہے۔لیکن جب ناگزیر حالات کے پیش نظر یہ مرحلہ آتا ہے کہ حقیقی عقائد روحانی مردوں کو زندہ کرنے میں پھر اہم کردار ادا کریں اور