مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 150
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 150 طور پر ان کے عام دنیوی طرز عمل میں بھی راہ پاتے اور منتقل ہوتے رہے ہیں۔اسی لئے مہربانی، عاجزی، رواداری، قربانی و ایثار اور اسی طرح کے دوسرے نیک الفاظ کی زبانی اور عملی بازگشت کے پہلو بہ پہلو ظلم و زیادتی، دھونس و دھاندلی، انتہائی نا انصافی اور دنیا کی نہتی و کمزور قوموں کو بڑے پیمانہ پر اپنے زیر نگیں لانے کانارواسلسلہ بھی جاری ہے۔بالعموم قانون کی حکمرانی، عدل پروری، باہمی تعلقات میں صاف ستھری روش، اور حسن سلوک کو سکہ رائج الوقت کی طرح صرف مغربی معاشروں میں اندرونی طور پر ہی روار کھا جاتا ہے بر خلاف اس کے بین الا قوامی تعلقات کے شعبہ میں ان مسلمہ اوصاف و اقدار کو احمقانہ ، گھسی پٹی اور ناقابل عمل روش تصور کرتے ہوئے چنداں اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ انہیں عمد ا پامال کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا۔سیاست، حکمت عملی، سفارت کاری اور اقتصادی روابط میں عدل و انصاف اور مساوات کی نہیں بلکہ صرف اپنے قومی مفادات کی پاسداری اور حکمرانی چلتی ہے۔انسانی اقدار کو (جنہیں مسیحی اقدار کا نام دے کر کچھ کم فخر و مباہات کا اظہار نہیں کیا جاتا) مغربی سیاست اور اقتصادیات کے دائروں کی طرف آنے اور ان میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔اس زمانہ کے دور جدید کا یہ سب سے زیادہ المناک تضاد ہے۔جب تعریفوں کے پل باندھ کر مسیحیت کو متعارف کرانا ہو تا ہے تو اسے بڑے فخر سے دلکش مغربی تہذیب و ثقافت کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے اور اس طرح مشرقی دنیا کو تفکرات سے مبرا پر آزمائش اور آزاد زندگی کے سبز باغ دکھا کر ان کو دعوت دی جاتی ہے اور اس کا مشرق کے زوال پذیر معاشروں کے بالعموم غیر لچکدار قواعد و ضوابط سے مقابلہ کر کے مسیحیت کی برتری کے گیت گائے جاتے ہیں۔تیسری دنیا کے نیم خواندہ عوام جو نام نہاد آزادی کے اس پیغام کی اصل حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں انہیں اس میں بڑی کشش محسوس ہوتی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ وہ سمجھتے ہیں کہ عیسائیت کی شکل میں مذہب سے وابستگی بھی بر قرار رہ سکتی ہے اور ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ اپنائیت کا نفسیاتی فائدہ بھی حاصل ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسیحیت اس حربہ کے ذریعہ کچلے ہوئے طبقوں اور ظلم و دباؤ کا شکار اچھوت قسم کے لوگوں کو جو اپنے معاشروں کے انتہائی نچلے طبقوں میں شمار ہوتے ہیں بڑی تعداد میں اپنی طرف مائل کرنے اور انہیں اپنا حلقہ بگوش بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔مسیحی عقائد اور ان کی نا معقول پیچیدگیوں کو سمجھنا ایسے لوگوں کی استعداد سے بالا ہوتا ہے۔مسیحیوں کا یہ حربہ انہیں ان کے سماجی مرتبہ کو بلند کرنے کے خواب دکھاتا ہے جو