مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 149
149 مسیحیت آج کے دور میں جیسے ہی بن گئے ہیں۔کہنے کو اس میں اپنائیت کا جذبہ مضمر ہے لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ اپنائیت ہے کس نوعیت کی؟ اپنائیت کے اس جذبہ نے انہیں نہایت مہنگے مغربی انداز زیست کی نقل کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔اگر اس کو ایک اور نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو کہا جا سکتا ہے کہ درخت اب بھی اجنبی زمینوں میں ہی لگے ہوئے ہیں لیکن ان کے پھل سمندر پار سر زمینوں میں پہنچا کر وہاں کے لوگوں کو ان کے مزے اور ذائقہ کا نشہ کے رنگ میں چسکا لگا دیا گیا ہے۔یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے اس امر کی کہ تیسری دنیا پر مغربی سامراج کا اقتصادی غلبه بر قرار رکھنے کے لئے عیسائیت ہمیشہ میٹھی چھری کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔خود مغرب میں ایک عام آدمی اس امر کا کوئی لحاظ کیے بغیر کہ وہ مسیحی عقائد کی پیچیدگیوں اور الجھنوں کو سمجھتا ہے یا نہیں وہ مسیحیت کو اپنی ثقافت اور اپنی تہذیب کا ایک لازمی جزو سمجھتا ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مسیحی اقدار جہاں کہیں بھی پائی جاتی ہیں ان کی اصل جڑ دیو مالائی کہانیوں پر مبنی مخصوص نوعیت کے عقائد میں پیوست نہیں ہے اس کی بجائے ان کا تمام تر انحصار کرم نوازی، ہمدردی، دکھی انسانیت کی خدمت اور اسی طرح کی دوسری مسلمہ اقدار کو اہمیت دینے پر ہے۔یہ عام انسانی اقدار ہیں اور ان کی اہمیت بین الا قوامی طور پر مسلم ہے۔کلیسیا کی طرف سے منظم طور پر کئے جانے والے زبر دست پر اپیگنڈہ کی وجہ سے یہ اقدار میسحیت کے مترادف سمجھی جانے لگی ہیں۔ہر چند کہ یہ دنیا کے تمام مذاہب کی مشتر کہ اقدار ہیں اور ہر مذہب میں ان اقدار کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور یہ خدا کی طرف سے اس لئے مقرر کی گئی ہیں کہ تمام بنی نوع انسان انہیں اپنا ئیں اور ان پر عمل پیرا ہوں تاہم بڑی ہوشیاری اور سمجھ داری سے عیسائی بہت منظم پر اپیگنڈے کے ذریعہ مسلسل اس امر پر زور دیتے چلے آرہے ہیں کہ یہ اقدار صرف مسیحیت کا خاصہ ہیں اور وہ لوگوں کو اس کا قائل کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں۔ہمدردی، مہربانی، خدا ترسی اور شرافت کا رویہ رسیلی نغمگی کی طرح دوسروں کو سحر زدہ کرنے کا موجب بنتا ہے۔ان اقدار پر زور دینے کا یہ رومانوی انداز ہی ہے جو لوگوں کو زیادہ تر مسیحی مذہب کی طرف کھینچتا ہے۔اس کے پہلو بہ پہلو اس رومانویت سے ماورا مغربی اند از زیست کی کشش، اہل مغرب کی سیاسی اور اقتصادی برتری نیز باقی دنیا کو اپنے زیر نگیں لانے کی روش یہ ساری باتیں بھی اپنا تاثر دکھا رہی ہوتی ہیں اور مسیحی منادا نہیں میسجیت کو تقویت پہنچانے میں استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسیحی عقائد کے تضادات جو ان کے دینی مزاج میں رچ بس گئے ہیں کسی نہ کسی