مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 147
باب ہشتم مسیحیت آج کے دور میں آج مسیحیت کو جس سب سے بڑے مسئلہ کا سامنا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ لوگوں میں صداقت کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رہی یا اس میں کمی آرہی ہے بلکہ اصل مسئلہ اسے یہ در پیش ہے کہ لوگوں میں صداقت کو قبول کرنے کی خواہش اور امنگ ہی مفقود ہوتی جارہی ہے۔در اصل بات یہ ہے کہ فی زمانہ مسیحیت (اس کی حیثیت افسانوی ہو یا حقیقی ) مغربی تہذیب کا جز ولا ینفک بنی ہوئی ہے۔مغربی تہذیب کے نو آبادیاتی نظام کے قیام اور اس کی سامراجی فتوحات میں سب سے زیادہ عمل دخل اسی کا ہے۔یہ ان کے سیاسی اور اقتصادی نظام کے لئے سہارے اور تائید و حمایت کا کام دے رہی ہے اور انہیں باہم اکٹھا رکھنے کی قوت مہیا کر کے انہیں ایک طاقتور اور متحدہ اکائی کی حیثیت سے قائم و بر قرار رکھنے کا موجب بنی ہوئی ہے۔مغرب کے پیچیدہ سماجی، سیاسی اور اقتصادی نظام کی تعمیر اور اس کے استحکام میں بنیادی کردار عیسائیت نے ہی ادا کیا ہے۔مغربی تہذیب یا مغربی سامراجی نظام اور اس کے اقتصادی غلبہ کی عملی شکل و صورت اور ہیئت اجتماعی میں مسیحی عناصر سرایت کیے ہوئے ہیں۔اپنی موجودہ حالت میں میسحیت روحانی مقصدیت سے کہیں بڑھ کر مغرب کے مادی مفادات کا آلہ کار بنے کی طرف زیادہ مائل ہے اور اس جانب اس کے جھکاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔برخلاف اس کے از منہ گزشتہ میں اس کا جھکاؤ مسیحی عقائد اور ان کی روحانی اقدار کو آگے بڑھانے کی طرف تھا اور معلوم یہ ہوتا تھا کہ یہی اس کا مقصد حیات ہے۔لیکن اگر دیکھا جائے تو تاریخی اہمیت کے اعتبار سے مسیحیت کا اصل کردار جس شکل میں ظاہر ہو اوہ یہی ہے کہ وہ فی زمانہ مغربی سامراجیت کو آگے بڑھانے کا موجب ثابت ہوئی ہے۔مشرق کو فتح کرنے کی مہم مذہبی جذبہ وجوش کے ساتھ انجام دی گئی۔بالخصوص وہ جنگیں جو مسلم سلطنت کے خلاف لڑی گئیں ان کا پر جوش جذبہ محرکہ ایک ہی تھا اور وہ تھا اسلام کے خلاف مسیحی بغض و عناد اور نفرت و حقارت کے دیرینہ جذبات۔مسیحیت اور نو آبادیاتی نظام جب استعماری حکمرانی اور فرمانروائی نے امریکہ اور افریقہ کے پورے براعظم کو اپنے زیر نگیں کر لیا