مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 141

141 مسیحیت کا ارتقا تھی جو انسانیت کو چار چاند لگانے کا موجب بنی اور جس نے اسے موت پر فتح بخش کر کامیابی کے ساتھ جینے اور مقصد حاصل کرنے کا ڈھنگ سکھایا۔اگر وہ مقصد حیات کو فراموش کر کے رضا کارانہ طور پر مرنا قبول کر لیتا تو ایسا فعل مصائب و شدائد سے فرار کے مترادف ہوتا۔کوئی اسے کس طرح بہادری اور شجاعت کے اقدام سے تعبیر کرتا۔کیا جو لوگ نامساعد و پر مصائب حالات کے دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے خود کشی کے مر تکب ہوتے ہیں ان کے اس فعل کو بزدلی قرار نہیں دیا جاتا؟ زندہ رہ کر مصائب و شدائد کی چکی میں پسنے کو تر جیح دینا اور حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا، مصائب سے چھٹکارے کی خاطر موت کو گلے لگانے اور زندگی کی بازی ہارنے سے بدرجہا افضل ہوا کرتا ہے۔اس لحاظ سے انسانیت کے گناہوں کی خاطر موت قبول کرنے کی شکل میں مسیح کی بظاہر عظیم قربانی کا انسانیت کے گناہوں کی خاطر موت قبول کرنے کی شکل میں مسیح کی بظاہر عظیم قربانی کا تصور کھو کھلی اور بے وزن جذباتیت سے زیادہ اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ہم پھر باصرار و به تکرار اس بات پر زور دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ مسیح کی عظمت اس امر میں پوشیدہ ہے کہ اس نے صرف ایک بار قربانی پیش کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ زندگی بھر مسلسل عظیم قربانی دیتا چلا گیا۔زندگی بھر اس نے اس ترغیب و تحریص کا بڑی پامر دی اور بے جگری سے مقابلہ کیا کہ وہ دکھوں اور مسلسل پہنچنے والی تکلیفوں سے جان چھڑا کر سکھ چین اور آرام کی زندگی بسر کرے۔ہر دن جو چڑھتا تھا اور ہر رات جو گزرتی تھی اسے موت در پیش ہوتی تھی کہ وہ اس کی آغوش میں جاکر دکھوں سے نجات حاصل کرے۔لیکن اس نے بزدلی نہیں دکھائی بلکہ مصائب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ زندہ رہا اور زندہ رہتا چلا گیا تا کہ جان جوکھوں میں ڈال کر گناہگاروں کو گناہوں سے پاک کرے اور اس طرح انہیں روحانی حیات سے ہمکنار کرتا چلا جائے۔اس نے اپنے آپ کو موت کے حوالہ کرنے سے انکار کر کے اور اس کے آگے جھکنے اور گھٹنے ٹیکنے سے منہ موڑ کر موت پر فتح پائی۔اس نے لوگوں کو گناہوں کے ذریعہ ہلاک کرنے والی موت کو چاروں طرف سے گھیر کر اسے چاروں شانوں چت کر دکھایا اور اس طرح اس کے شکنجے سے بہتوں کو نکالنے میں کامیاب رہا۔اس سے کم ہمت کوئی اور ہوتا تو دوسروں کو بچانا تو کجا خود تباہ ہوئے بغیر نہ رہتا۔اس طرح اس نے اپنی صداقت کو آشکار کر دکھایا اور اپنے وعدے کو پورا کر کے چھوڑا۔یہی تو اس کی وہ خوبی ہے جس کی وجہ سے ہم اس کی عزت کرتے ہیں اور اس سے اس قدر محبت رکھتے ہیں۔وہ اپنی مرضی اور اپنی خواہش سے نہیں بولتا تھا بلکہ خدا کے کہے سے بولتا تھا اسی لئے اس کی آواز خدا کی آواز تھی۔اس نے وہی کچھ کہا جس کے کہنے پر وہ مامور کیا گیا تھا۔اس میں کمی بیشی کیے بغیر بعینہ وہی اس نے کہہ دکھایا اور پھر