مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 139

139 مسیحیت کا ارتقا مسیح کی اصل حقیقت پولوس کے منظر عام پر آنے اور اس کے مغربی سرزمینوں میں مسیحیت کا پرچار کرنے کے بعد مسیحیت واضح طور پر دو حصوں میں منقسم ہو گئی تھی۔ایک تو تھی پولوسی مسیحیت اور دوسری تھی وہ اصل مسیحیت جس پر جیمز دی رائیٹیٹس اور اس وقت کے دوسرے عیسائی لیڈر (جو مسیح کے شاگرد بھی تھے) ایمان رکھتے تھے۔بلا شبہ ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ ان دونوں کے مسیحی مسلکوں میں سے جس کے مسلک کو چاہے اختیار کرے لیکن ہم یہاں یہ بات بطور خاص واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ان میں سے جو اصل مسیحیت تھی وہ وحدانیت کے خطوط پر ہی پنپتی رہی اور اس نے اپنے آپ کو ان جدت طرازیوں سے الگ تھلگ اور پاک رکھا جو آگے چل کر مسیحی ایمانیات میں بے سروپا باتوں اور عجیب در عجیب گنجلکوں کا اضافہ کرنے کا موجب ہوئیں۔ایسی بے سروپا باتوں میں بیٹے کی حیثیت سے مسیح کی اپنی الوہیت ، تثلیث ، موروثی گناہ، کفارہ، نجات اور جسمانی طور پر مسیح کے دوبارہ جی اٹھنے کے عجیب و غریب مسائل شامل ہیں۔کلیسیا کے ابتدائی لیڈروں کے مذہبی نظریات ( جنمیں جیمز دی رائیٹیٹس کو نمایاں حیثیت حاصل ہے ) بہت سہل اور عام فہم تھے اور ان تضادات کی گنجلکوں سے پاک تھے جو پر اسرار دھند اور دھوئیں کی تہہ کے پیچھے چھپے ہوئے تھے۔کلیسیا میں خدائے واحد پر ایمان رکھنے والے مسلک کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت ثابت ہوئے بغیر نہیں رہتی کہ تثلیث کے نعرہ سے یکسر مبرا توحید خالص کا عقیدہ سرکاری سطح پر اس وقت کے حقیقی کلیسیا کا طرہ امتیاز بنا رہا۔ہم واضح کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس مختصر مقالہ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ عیسائیوں کو خود مسیح کے اپنے عقیدہ سے منحرف کر کے انہیں کسی اور عقیدہ کا معترف بنایا جائے۔اس مقالہ کی حیثیت محض ایک پر خلوص کوشش کی ہے اور وہ کوشش یہ ہے کہ مسیحی بھائیوں کو اس خالص مذہب اور طریق عمل کی طرف دعوت دی جائے جو مسیح کا اپنا مذ ہب اور طریق عمل تھا۔کلیتہ اخلاص پر مبنی ہماری یہ درد مندانہ کوشش ہے کہ مسیحی بھائیوں کی توجہ قصے کہانیوں سے ہٹا کر ان کا رخ پھر عیسائیت کے اصل حقائق کی طرف پھیر دیا جائے۔یہ حقائق صاف ستھری اور نکھری ہوئی اصلیت کے آئینہ دار ہونے کے باعث اتنے حسین ہیں کہ ان سے آگاہ ہو کر قلوب و اذہان کو عجب تسکین و طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔یہ مسیح کی حقیقت کے گرد دو ہزار سالہ قصے کہانیوں کے بنے ہوئے جال کی بدولت نہیں ہے کہ جس