مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 137
137 مسیحیت کا ارتقا ایک انسان کے طور پر ذکر کیا گیا ہے اور یہودی قانون شریعت کو اس میں بہت اہمیت دی گئی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پولوس کے ماننے والوں نے مسیح کے مذہب کو ترک کر دیا تھا اور وہ اہل روما کے مذہبی عقائد کی طرف مائل ہو گئے تھے۔“ ('The Messianic Legacy' M۔Baigent, R۔Leigh, H۔Lincoln۔p۔135-138, Corgi Books) مسیحی عقائد کی تشکیل کے مراحل میں جو عقائد ابھر کر سامنے آئے ان میں سے صرف ناضرینز (Nazarene) کے عقائد ہی اس بات کے سزاوار ہیں کہ انہیں دوسروں کے عقائد پر ترجیح دی جائے۔یہ ابتدائی مسیحی وہ تھے جنہیں مسیحیت کی تعلیم کے معانی و مفہوم سے خود مسیح نے آگاہ کیا تھا۔پولوس کا کردار ظاہر ہے اس وقت وہاں (یروشلم اور اس کے گردو نواح میں ) پولوس اور اس کے مکتب فکر کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔بعد میں جب پولوس میسحیت میں داخل ہوا تو اس وقت سے مسیحیت بیرونی سرزمینوں اور خاص طور پر سلطنت روما کے مغربی علاقوں میں پھیلنی شروع ہوئی جہاں ملحدانہ مذاہب نے اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھے۔یہ نئے نئے علاقوں میں پہلے سے پھیلی ہوئی ثقافتوں اور ان کے دیومالائی قصوں کہانیوں کا زبر دست اثر قبول کرتی اور ان کی طرف مائل ہوتی چلی گئی۔اس طرح یہ اپنی قدرتی ماہیت اور ابتدائی پاکیزگی سے محروم ہو کر اس سے دور سے دور تر ہوتی چلی گئی۔ادھر خود پولوس نے بھی جو ان علاقوں میں عیسائیت کا پرچار کر رہا تھا خود اپنی پر اسرار ضعیف الاعتقادی کا کچھ نہ کچھ عنصر اس میں متعارف کرایا اور اس طرح وہ خود بھی مسیحی خیالات و نظریات میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر اثر انداز ہو تا چلا گیا۔اس طرح مسیحی نظریات میں انحطاط کی کیفیت کا رونما ہونا ایک قدرتی امر تھا۔پولوس نہ تو خود یہودی النسل تھا اور نہ اس کا مسیح سے براہ راست کوئی رابطہ یا تعلق قائم ہوا تھا سوائے اس کے کہ اس کے اپنے دعوئی کے بموجب وہ مسیح سے خواب میں ملا تھا۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ وہ پہلے ہی سے اجنبی ثقافتوں کے زیر اثر تھا اور ان کا زبر دست اثر قبول کرتارہا تھا۔پولوس کے سامنے دو ہی راستے تھے کہ وہ سلطنت روما میں خدا جانے کب سے پھیلے ہوئے تو ہمات، دیو مالائی قصوں اور روایتی داستانوں کے خلاف زبر دست تبلیغی جہاد کرتا اور بحث و تمحیص کا سلسلہ شروع کر کے ان سے پوری طرح نبرد آزما ہوتا یا پھر وہ ان کے آگے ہتھیار ڈال دیتا اور ان کی ضرورتوں اور خواہشوں کے عین مطابق عیسائیت کو نیا روپ اختیار کرنے دیتا۔یہ مؤخر الذکر راہ ایسی تھی