مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 136
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 136 تھے نیز سبت کا بھی بڑے جذبہ و جوش سے احترام کرتے تھے اور اس کی پوری طرح پابندی کے دل سے قائل تھے۔جیمز کو وہ بہت اونچا مقام اور مرتبہ دیتے تھے جبکہ پولوس کو اصل مسیحیت کا دشمن گردانتے تھے۔متی باب 13 آیت 25 تا40) Ibid۔p۔233-34 بیجنٹ (Baigent)، لائیگ (Leigh) اور لنکن (Lincoln) کے نزدیک ابتدائی زمانہ کے مسیحی فرقے ایونائٹس (Ebionites)، نوسٹکس (Gnostics) انیچینز (Manicheans)، مانڈینز (Mandeans)، سائنز (Sabians)، نستور ینز (Nestorians)، ایلکا سائٹس (Elkasites) وغیرہ ناضر ینز (Nazarene) فلاسفی کے ماننے والے تھے۔مذکورہ بالا سب مصنفین ناضر ینز کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ سمجھتے تھے کہ : ناضرینز کے طور طریق اور اقوال سے اخذ کردہ یسوع اور اس کی بیان کردہ اصل تعلیم کی طرف اپنے رخ کو قائم رکھنا اور اس سے ادھر ادھر نہ ہونا ضروری ہے۔اور یہ وہی تعلیم تھی جسے جیمز، جیوڈاز اور تھامس اور ان کے ساتھیوں نے تبلیغ کے ذریعہ پھیلایا اور عام کیا۔ناضرینز کی تقلید میں ان سب فرقوں کے عقائد یہ تھے۔۔1۔2۔3۔4 موسوی شریعت کے ساتھ پوری وابستگی اور اس کی مکمل پابندی۔یسوع کے متعلق یہ یقین رکھنا کہ وہ مسیح تھا۔اس امر کو تسلیم کرنا کہ مسیح عام انسانوں کی طرح ہی پید ا ہوا تھا۔پولوسی نظریات کو غلط سمجھنا اور ان کی مخالفت کرنا۔استنبول کی لائبریری میں عربی مخطوطات کا ایک مجموعہ رکھا ہوا ہے جو ایک اور قدیمی مخطوطہ کے متن کے اقتباسات پر مشتمل ہے۔یہ متن ”النصاری کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور پانچویں یا چھٹی صدی عیسوی کے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔یہ ملک شام کی ایک قدیمی زبان میں لکھا ہوا ہے۔مخطوطات کا یہ مجموعہ ایران عراق سرحد کے قریب جنوب مغربی ایران کے علاقہ میں واقع خوزستان کی ایک خانقاہ سے ملا تھا۔اس مجموعہ مخطوطات سے ناضر ینز (Nazarene) کے مذہبی پیشواؤں کے عقائد و نظریات کی عکاسی ہوتی ہے۔یہ 66 عیسوی میں رونما ہونے والی تباہی کے بعد یروشلم سے بیچ بچا کر یہاں پہنچا تھا۔اس میں یسوع کا