مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 135
135 مسیحیت کا ارتقا نام اس لیے یبیو نا ئٹس کہلاتا ہے کہ وہ مسیح کے بارہ میں بہت گھٹیا اور ذلت آمیز خیالات کے حامل تھے۔حالانکہ ایونائٹس مسیح کو تمام دوسرے انسانوں کی طرح ایک فانی انسان سمجھتے تھے۔وہ اس کی نیکی اور راستبازی کو جو اس نے اپنی بلند کر داری اور اخلاقی رفعت کی وجہ سے حاصل کی تھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔یہودی ہونے کی وجہ سے وہ سبت کے دن کا احترام کرتے تھے۔شریعت کی ہر تفصیل پر عمل پیرا تھے اور اس پولوسی نظریہ کے قائل نہ تھے کہ نجات صرف ایمان کے وسیلہ سے نصیب ہوتی ہے۔اس نے ایبیو نا ئٹس کے ایک گروہ کا بھی ذکر کیا ہے۔اس گروہ کے لوگ مسیح کے کنواری کے بطن سے جنم لینے کے قائل تھے۔وہ روح القدس پر بھی ایمان رکھتے تھے لیکن اس نظریہ کے قائل نہیں تھے کہ مسیح پیدائش سے قبل خدا کے کلام اور اس کی حکمت بالغہ کے روپ میں پہلے سے موجود تھا۔وہ ہیبریوز کی انجیل کی پیروی کرتے تھے۔وہ ممکنہ طور پر متی کی انجیل ہو سکتی تھی۔وہ سبت کا دن مناتے تھے اور یہودی طور طریق پر عمل پیرا تھے۔البتہ وہ صیح کے جی اٹھنے کا دن بھی مناتے تھے اور اس پر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔(The History of the Church by Eusebius, p۔90-91 Penguin, 1989) آر آئزن مین (R۔Eisenman) نے اپنی کتاب The Dead Sea Scrolls Uncovered (یعنی بحر مردار کی گولائی میں لیٹے ہوئے صحائف کے مندرجات کا انکشاف ) میں ایونائٹس فرقہ کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جیمز دی رائیٹیٹس پہلی صدی عیسوی کے وسط میں (قریباً 40 تا 46 بعد از مسیح) کلیسیائے یروشلم کا سربراہ تھا۔یہ کلیسیا کی وہ شاخ تھی جو ماضی قریب کی نسبت سے فلسطین میں ”یہودی مسیحیت “ کہلاتی تھی۔ایبیونائٹس نے اسی شاخ سے ابھر کر ایک فرقہ کی شکل اختیار کی تھی۔(The Dead Sea Scrolls Uncovered by R۔Eisenman & M۔Wise, p۔186, Element Books, 1992) جو جماعت جیمزدی رائیٹیٹس کی پیرو تھی اس کے افراد ”غربا ( یعنی دل کے غریب“ کہلاتے تھے۔(سلتیوں کے نام خط باب 2 آیت (10) نیز (یعقوب کا خط باب 2 آیت 3 تا 5)۔یہ ایک ایسا لقب ہے جو مسیح کے پہاڑی وعظ میں بھی آتا ہے اور ”ڈیڈسی سکرولز“ (بحر مردار کے لیٹے ہوئے صحیفوں) میں بھی آتا ہے۔مذکورہ مصنف آئزن مین کا احساس یہ ہے کہ کئی لحاظ سے ایبیو نائٹس ڈیڈ سی سکرولز (بحر مردار کے صحیفوں) کے مصنفوں سے ملتے جلتے لوگ تھے۔وہ جیمز دی رائیٹس کا بہت احترام کرتے تھے اور یسوع کا اپنا مسیحا یقین کرتے تھے لیکن سمجھتے تھے اسے دوسرے انسانوں کی طرح ایک فانی انسان۔ان کے نزدیک پولوس نے شریعت موسوی سے ارتداد اختیار کر لیا تھا۔وہ خود شریعت موسوی پر پوری طرح عمل کرتے