مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 134

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 134 زندگی کے طور طریق اور عملی نمونہ میں پیوست تھیں۔پھر وہی تھے جنہوں نے مسیح کے واقعۂ صلیب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور قتل کیے جانے کی عملی کوشش سے ان کے زندہ بچ نکلنے کا بچشم خود مشاہدہ کیا تھا۔صحیح پر ایمان لانے والے اور ابتدائی پیرو معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی زمانہ کے مسیحیوں میں آگے چل کر دو امور کے متعلق اختلاف پید اہو گیا تھا اور وہ امور یہ تھے (1) مسیح کا مرتبہ و مقام کیا ہے؟ (2) آیا موسوی شریعت سے وابستہ رہتے ہوئے اس کی پیروی کی جائے یانہ کی جائے ؟ ہوا یہ کہ آگے چل کر جسے ہم مسیحیت کی نشوونما اور ترقی کے دوسرے دور سے تعبیر کر سکتے ہیں سینٹ پال (پولوس) نے مسیحیت کو ایک نیا فلسفہ اور نیا نظریہ دینے میں مرکزی کردار کی حیثیت حاصل کر لی۔پولوس اور جیمز کے درمیان جو راستباز جیمز (James the Righteous) کے نام سے موسوم تھا، بنیادی نوعیت کے نظریاتی اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔جیمز یروشلم کے کلیسیا کا نگہبان اور سربراہ تھا جبکہ پولوس مغربی سرزمینوں میں عیسائیت کا پرچار کر رہا تھا اور کر بھی رہا تھا غیر یہودی اقوام میں۔سویروشلم کے کلیسیا کے بالمقابل مغربی کلیسیا نے خاص طور پر پولوسی عقائد کے انداز میں نشو نما پائی جبکہ یروشلم کا کلیسیا مسیح کی اصل تعلیم پر ہی قائم رہا جس میں توحید باری کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔جیمز نے اپنے دور امارت میں مسیح کی جس تعلیم کو عام کیا اسی کے زیر اثر آگے چل کر ایونائٹس (Ebionites) کے نام سے ایک فرقہ بنا۔اس کا نام عبرانی لفظ ایونم (Ebionim) سے ماخوذ تھا جس کے معنے تھے ”غریب “ اس سے مراد تھی فقر کو ترجیح دینے والے دل کے غریب۔وہ دراصل یہودی مسیحی تھے۔یسوع ان کے نزدیک مسیح کی حیثیت سے ظاہر ہوا تھا۔اور یہ کہ اس کا ظہور ”خدا کے بیٹے کے طور پر نہیں تھا۔وہ بڑے جذ بہ وجوش کے ساتھ موسوی شریعت پر عمل پیرا تھے۔ان کی اپنی ایک انجیل تھی جو مختلف نسبتوں کے اعتبار سے عبرانیوں کی انجیل“ (Gospel of Hebrews) ، " یونائٹس کی انجیل“ (Gospel of Ebionites) اور ”ناضرینز کی انجیل “ (Gospel of Nazarenes) کہلاتی تھی۔تاریخ کلیسیا کے نام سے جو کتاب سیز اریا (Caesarea) میں لکھی گئی تھی اس کے مصنف یو سیبس Eusebius نے اس کی تیسری کتاب ”ویسیا سیئن ٹوٹر اجن“ (Vespasian to Trajan) میں ایونائٹس کا ذکر کیا ہے۔وہ ان کے نظریات کا ذکر کرتے ہوئے تضحیک سے کام لیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ان کا