مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 133
باب ہفتم مسیحیت کا ارتقا مسیحی ایمانیات میں تثلیث کے عقیدہ کو بنیادی عقائد میں سے ایک مرکزی عقیدہ کی حیثیت حاصل ہے بایں ہمہ حقیقت یہ ہے کہ مسیح کے اپنے زمانہ حیات میں اس نام نہاد عقیدہ کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ واقعۂ صلیب کے بہت بعد اس عقیدہ نے رفتہ رفتہ مختلف شکلیں اختیار کرناشروع کیں۔اسے آخری اور معین شکل دینے میں کئی صدیاں لگ گئیں لیکن پھر بھی یہ ایک ایسا معمہ بنا رہا اور ہنوز بنا ہوا ہے کہ جسے واضح طور پر حل کرنا ممکن نہ ہو سکا اور نہ آج تک ہو سکا ہے۔یہ عقیدہ ایک مابہ النزاع امر کی حیثیت سے مسیحی ماہرین دینیات اور مسیحی فلسفیوں کے مابین بہت طویل اور تلخ بحث و تمحیص کا موضوع بنا رہا۔اس بحث میں حصہ لینے والے مسیحی ماہرین دینیات اور فلسفی وغیرہ مختلف مذہبی ، ثقافتی اور روایتی پس منظروں اور ان کے ناگزیر اثرات کے حامل تھے چنانچہ وہ اپنے اپنے رنگ میں اس بحث ۱ پر اثرانداز ہوتے رہے۔یہ عقیدہ مختلف سر زمینوں کے دیومالائی قصوں کہانیوں، رسوم و رواج اور روایتوں وغیرہ سے بڑی حد تک متاثر ہو تا رہا ہے۔یہ وہ سر زمینیں تھیں جنہوں نے شروع زمانہ میں عیسائیت کو اپنے ہاں آنے دیا، اسے برداشت کیا اور ایک رنگ میں اس کی میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔مسیحیت کی شاخ فی الاصل شجر یہودیت کے تنے سے ہی پھوٹی تھی اس لئے قدرتی طور پر اس کے ابتدائی دور میں جس حد تک بھی ممکن ہو سکا اس کی خبر گیری اور تشکیل و صورت گری میں اسی نے حصہ لیا۔مسیحی تاریخ کے تمام تر ابتدائی حصہ میں خود یہودیوں کی طرف سے مخالفت کے پہلو بہ پہلو مسیحیت پر یہودی اثر ہی غالب رہا۔مسیح کے شاگردوں نے مسیحیت کا درس براہ راست خود مسیح سے ہی لیا اور اس کے معانی و مفہوم اور مالہ وماعلیہ کو تمام تر اسی سے سمجھ کر اسے اپنے دل میں جگہ دی۔پھر یہی نہیں بلکہ جو کچھ سیکھا خود مسیح کی ذات میں اس کا عملی نمونہ مشاہدہ کیا۔مسیح کے وہ سب شاگر دیہودیوں میں سے ہی آئے تھے۔آغاز کار ہی آشامل ہونے کی وجہ سے وہ مسیحیت کے ابتدائی محافظ تھے۔مسیحیت پر ان کے ایمان کی جڑیں مسیح کی مقدس ہدایات اور اس کی