مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page xv
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک xiv سیکولر ازم کی ترقی اور سیکولر خیالات کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ایک دوسرے میں مدغم ہوتے رہے۔اس نئی صورت حال نے مذہب کی اصل بنیاد یعنی خدا کی ہستی پر ایمان کو ہلا کر رکھ دیا اور اس طرح مغربی معاشرہ میں خدا پر ایمان تباہی کی نذر ہو گیا۔انسان میں اخلاقی اقدار کی پاسداری اور احترام کا اس کے ایمان باللہ سے براہ راست تعلق ہو تا ہے۔یہ ایمان باللہ ہی ہوتا ہے جو انسان کی اخلاقی حالت کو سنوار تا اور پھر اس کی حفاظت کرتا ہے۔اگر ایمان باللہ کمزور یا ناقص ہو یا اس میں کوئی خامی پائی جاتی ہو تو اسی نسبت سے انسان کی اخلاقی حالت بھی متاثر ہو رہی ہوتی ہے۔مثال کے طور پر اگر ایک طرف ایمان باللہ اور دوسری طرف نظام قدرت سے متعلق دی جانے والی سیکولر تعلیم یا عقل عمومی کے تقاضوں میں تصادم کی کیفیت رو نما ہورہی ہو تو پھر رفتہ رفتہ اور درجہ بدرجہ ایسے لوگوں کے ایمان باللہ کی کیفیت کو گھن لگنا شروع ہو جاتا ہے اور اسی نسبت سے ان کی اخلاقی حالت پر بھی منفی اثر پڑنے لگتا ہے اور لگتا چلا جاتا ہے۔اندریں صورت اس امر کے باوجود کہ ان میں سے بعض افراد کا ایمان باللہ سلامت بھی ہو بالعموم اجتماعی بگاڑ کے زیر اثر ہوتے ہوتے من حیث المجموع عملاً پورا معاشرہ دہریت کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے۔نوع انسانی کی زندگیوں میں کار فرما اس اصول کے پیش نظر کسی بھی معاشرہ یا سوسائٹی کے ایمان باللہ کی کیفیت کا اندازہ لگا کر اس کی اخلاقی حالت کے بارہ میں فیصلہ کرنا یا اخلاقی حالت کی روشنی میں ایمان باللہ کی کیفیت کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے۔ایمان باللہ جتنا کمزور یا ناقص ہوتا ہے لوگوں کے اخلاقی کردار پر اس کی گرفت اتنی ہی زیادہ کمزور پڑ جاتی ہے۔جب ان دونوں کے تقاضوں میں تصادم کی کیفیت رونما ہوتی ہے تو کمزور ایمان باللہ غیر اخلاقی رجحانات کی کشش کے آگے بند باندھنے میں ناکام رہتا ہے اور ان رجحانات کو کھل کھیلنے کا راستہ دے دیتا ہے۔دنیا بھر میں کہیں بھی کسی مذہبی سوسائٹی یا معاشرہ پر اس اصول یا معیار کا اطلاق کر کے ہم اس کے ایمان باللہ اور اخلاقی حالت کے بارہ میں صحیح اور قابل اعتماد نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔بظاہر خدا کی ہستی پر یقین رکھنے والی کسی عیسائی سوسائٹی کو امتحان کے رنگ میں اگر جانچنا ہو تو صرف اتنا ہی دیکھنا اور معلوم کرنا کافی ہے کہ آیا اس سوسائٹی میں عملاً مسیحی اقدار کا دور دورہ ہے یا نہیں۔مثال کے طور پر کیا ان لوگوں کا اپنے پڑوسیوں کے ساتھ سلوک اور بر تاؤ بالکل ویسا ہی ہے کہ جیسے سلوک کا توریت کے دس احکام ان سے تقاضا کرتے ہیں ؟ کیا جنگ یا جھگڑے وغیرہ کی صورت میں کسی قومی بحران کے وقت وہ اپنے حریفوں سے معاملہ