مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 131 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 131

131 تثلیث چاہیں تو ہم فرض کر لیتے ہیں ایک شخص ہے جس کا نام پال (Paul) ہے۔اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ پال کا جگر اور دل اور اسی طرح اس کے پھیپڑے اور گردے اپنی انفرادیت رکھتے ہیں اور اپنے اپنے مفوضہ کام انجام دیتے ہیں تو وہ بھی اپنی اپنی جگہ اپنی ذات میں پاؤل ہی کی طرح اس جیسے انسان ہیں۔ان اعضا میں سے ہر ایک عضو کی پورے اور مکمل انسان کے ساتھ یکسانیت صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے کہ ہم از راہ امتثال یہ کہیں کہ اکیلے گردے اپنی جگہ کلیۂ وہ سارے امور انجام دے رہے ہیں جو پاؤل کو مکمل انسان ہونے کی حالت میں انجام دینا ہوتے ہیں۔اور اسی انداز سے اس کے دوسرے اعضا کے بارہ میں بھی یہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔اس صورت میں تو یہ بھی کہنا پڑے گا کہ ہر عضو کی غیر موجودگی پاؤل کے کاموں اور کردار میں سر مو کوئی فرق نہ ڈالے گی۔بالفاظ دیگر مطلب یہ ہوا کہ پاؤل کے پھیپھڑے ، دل، گر دے اور دماغ بلکہ اس کے تمام اعضا بھی نکال باہر کیے جائیں تو پاؤل پھر بھی اپنی ذات میں مکمل رہے گا یعنی اس کے مکمل ہونے میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ایسا اس لیے ہو گا کہ آخری تجزیہ کی رُو سے تمام اعضا کے مابین اپنی اپنی جگہ مکمل یکسانیت موجود ہوگی اور باہم ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے کی صورت میں بھی ان کے درمیان کوئی فرق آئے گا ہی نہیں۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو پاؤل کی اپنی شخصیت بھی ان اعضا کی عدم موجودگی کے باوجود صحیح سالم رہے گی۔اگر تین میں ایک کا یہی منظر نامہ بننا ہے تو پھر منطق کی روسے مسیحی عقائد پر تنقید کرنا ہی کار بے مقصد ٹھہرے گا۔موجودہ زمانہ کے مسیحی اعتقاد پر جو منطق صادق آئے گی وہ میکبتھ (Macbeth) کی جادو گرنیوں والی الٹی منطق ہوگی جو یہ کہتی ہے کہ ”خوب ناخوب ہے اور ناخوب ہے خوب “ جس کا ہے کہ نیکی فی الاصل بدی کے مترادف ہے اور بدی اپنی ذات میں نیکی