مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 123
123 تثلیث طریقہ کار کو یسوع کے مادی جسم میں منتقل کیا۔بالفاظ دیگر مسیح تن تنہا اور اکیلا ہی ایک ایسے تجربہ میں سے گزرا جس میں مسیحی تثلیث کے دوسرے دو اجزائے ترکیبی ( ”باپ خدا اور روح القدس) سرے سے شامل ہی نہ تھے۔کیا یہ ایسا گورکھ دھندا نہیں ہے جس سے ذہن ٹھٹک ٹھٹک کر ضغطہ میں پڑے بغیر نہیں رہتا ! مختلف خصائص و کردار رکھنے والی شخصیتیں ،، اگر وہ (یعنی تثلیث کے تینوں اجزائے ترکیبی) تین علیحدہ علیحدہ ہستیاں تھیں اور اپنے علیحدہ علیحدہ ذاتی خصائص و اوصاف کی مالک تھیں اور ایک دوسرے کے خصائص و اوصاف اور صفات میں باہم شریک نہ تھیں تو پھر انہیں ” ایک میں تین اور تین میں ایک قرار نہیں دیا جاسکتا۔تثلیث کے تینوں اقانیم کے وحدانیت کی آئینہ دار اکیلی ہستی میں ڈھل جانے کو صرف اسی صورت میں متصور کیا جاسکتا ہے کہ جب ان کے خصائص و اوصاف اور تمام صلاحیتیں بھی ایک دوسرے سے بکلی مطابقت اختیار کر لیں اور کوئی ایسے امتیازی پہلو باقی نہ رہیں جو انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ کر دکھانے والے ہوں۔اس سے ایک منظر نامہ ابھرتا ہے جو کسی حد تک مشابہت رکھتا ہے پیدائشی طور پر ایسے تین جڑواں وجودوں سے جن کے ذہن ، دل، دیگر اعضا اور جذبات و احساسات اور اسی طرح جن کی حرکات و سکنات اور اعمال و افعال میں ایسی مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے تجربہ میں دوسرے دو بھی برابر کے شریک رہتے ہیں۔اگر ایسا ہی وقوع میں آتا ہے تو ”باپ خدا“ بیٹے اور روح القدس کی تثلیث ایسی شکل اختیار کر لیتی ہے جسے کسی نہ کسی حد تک قابل فہم قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ان کے تین علیحدہ علیحدہ جسموں اور ان کے علیحدہ علیحدہ شخصیتوں کے مالک ہونے کا مسئلہ پھر بھی موجو د رہے گا۔اس لحاظ سے یہ بات بھی یقیناً عیسائی عقیدہ تثلیث پر صادق نہیں آتی۔دوبارہ غور کرنے سے انسان ایک ایسی اکیلی شخصیت کا تصور کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے جو تین شناختوں کی مالک ہے۔ایسے نام نہاد تین جڑواں وجودوں کی شناخت اسی صورت میں متصور ہو سکتی ہے جب تین علیحدہ علیحدہ وجودوں کی بجائے ایک ہی شخص اپنے اندر تین شخصیتوں کا حامل ہو۔یہ صورت حال خود اپنی ذات میں کئی مسائل اور الجھنیں کھڑی کرنے کا موجب بنتی ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ خدا کا کوئی جسم نہیں ہے اس لئے یہاں انسانی جسم سے مماثلت کے اطلاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔یقیناً ہم خوب جانتے ہیں کہ انسانی اصطلاح کے مطابق خدا کا کوئی جسم نہیں ہے لیکن یکسانیت کی حامل