مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xiv of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page xiv

xiii پیش لفظ صورت حال پر منتج ہوا۔جب گلیلیو (Galileo) (۱۵۶۴ء تا۱۶۴۲ء) نے نظام شمسی سے متعلق اپنی دریافت پر مبنی نظریات شائع کیے تو اس پر کلیسیا بھڑک اٹھا کیونکہ اس کے دریافت کردہ نظریات نظام شمسی سے متعلق کلیسیا کے اعتقاد و تصورات سے متصادم تھے۔قید و بند اور انتہائی شدید دباؤ اور دھاندلی و دھونس کے تحت اسے اپنی سائنسی دریافتوں کی علی الاعلان خود تردید کرنے پر مجبور کیا گیا حتی کہ اس کے لئے تردید کرنے کے سوا چارہ نہ رہا۔اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اسے عذاب دے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔اس کے باوجود اسے پابند کر دیا گیا کہ وہ بقیہ زندگی خود اپنے گھر میں نظر بند رہ کر گزارے۔عرصۂ دراز کے بعد کہیں ۱۵۹۱ء میں جاکر کلیسیا گلیلیو (Galileo) کے خلاف نظر بندی کا فیصلہ واپس لینے پر آمادہ ہوا اور آمادہ بھی ہو ا پوپ جان پال ثانی کی قائم کردہ ایک کمیٹی کے بارہ سال تک جاری رہنے والے طویل غور و خوض کے بعد کی جانے والی سفارش پر۔بنابریں ابتدا میں سائنس اور بائبل کے درمیان رونما ہونے والے یہ تضادات معاشرہ کی عوامی سطح تک سرایت نہ کر سکے اور عوام میں ان کا کوئی اثر ظاہر نہ ہو سکا۔ایک عرصہ تک یہ تضادات دانشوروں کے مختصر سے حلقہ تک محدود رہے۔بالآخر سیکولر علم کی روشنی پھیلنے کے ساتھ ساتھ اس وقت کے مروجہ مسیحی عقائد کی نام نہاد روشنی مدھم پڑنا شروع ہوئی اور ایک متقابل ظلمت واند ھیرے میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔پندرھویں صدی میں شروع ہونے والی کلیسیا کی اصلاحی تحریک کے ابتدائی زمانہ میں سائنس دانوں کی تحقیقی سرگرمیاں بالعموم خود اپنے ہی روشن خیال حلقوں کے اندر جاری رہیں۔ان حلقوں سے باہر دوسروں کو ان کی ہوا بھی نہیں لگنے دی گئی۔وہ وسیع رابطہ اور تعلق جو سائنس دانوں اور عوام الناس کے در میان آج ہمیں نظر آتا ہے وہ اس زمانہ میں ناپید تھا اس لئے سائنس دانوں کے دہریت پر مبنی ملحدانہ خیالات بحیثیت مجموعی معاشرہ کو زیادہ متاثر نہ کر سکے لیکن جب بین الا قوامی سطح پر تعلیم کا چرچا عام ہوا اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے والی قوموں کے نوجوانوں نے بکثرت تعلیم حاصل کرنی شروع کی تو پھر مذہبی صورت حال متاثر ہونے لگی اور رونما ہونے والی تبدیلی غلط سمت اختیار کرتی چلی گئی۔اس کے نتیجہ میں خالصہ فلسفے اور عقلیت پسندی کے دور کا آغاز ہوا۔سائنس کے ساتھ ساتھ معاشرتی زندگی اور انسانی نفسیات سے تعلق رکھنے والے فلسفیانہ خیالات بھی اُبھرتے اور عوام میں پھیلتے چلے گئے۔خاص طور پر اُنیسویں اور بیسویں صدی میں ان نت نئے فلسفوں نے خوب زور پکڑا۔مادی فلسفے ،