مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 118
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 118 جس لمحہ بھی ایک انسان اس صورت احوال یا منظر نامہ کو تسلیم کرتا ہے کہ ہستی تو ایک ہی تھی پر اس کے مختلف پہلو بیک وقت ظاہر ہو کر اپنا جلوہ دکھا رہے تھے اسی لمحہ تثلیث یعنی ”ایک میں تین “ علیحدہ علیحدہ خداؤں کے موجود ہونے کا تصور دھواں بن کر ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے اور تثلیث سرے سے باقی ہی نہیں رہتی۔ایک ہی ہستی کے مختلف پہلوؤں کی ایک ساتھ جلوہ گری کی ممکنہ صورت میں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ ایک یا اکیلا ہی ”باپ خدا تھا جس کا جذبہ رحم جوش میں آیا اور خدا ہوتے ہوئے اس نے انسانی گناہوں کی پاداش میں خود ہی موت کو گلے لگا لیا اور مرکز خس کم جہاں پاک ہوا۔اس صورت میں اس اکیلی ہستی کا یہ فعل ایک عارضی مرحلہ یا دور کے مترادف ہو گا جو آیا اور گزر گیا۔کسی ایک وجود کے مختلف پہلو خود اپنی ذات میں علیحدہ وجودوں کی حیثیت نہیں رکھتے۔مختلف پہلو تو ادلتے بدلتے اور آتے جاتے رہتے ہیں۔اسی طرح مختلف حیثیتیں یا مر حلہ وار ظاہر ہونے والے ادوار اپنی اپنی جگہ علیحدہ علیحدہ وجودوں کی حیثیت نہیں رکھتے۔وہ ظاہر ہوتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔کوئی بھی انسان دو یا تین علیحدہ علیحدہ شخصیتوں میں تقسیم ہوئے بغیر لا تعداد مزاجی کیفیتوں اور ان گنت پہلو وار حالتوں میں سے گزر سکتا ہے۔اس لحاظ سے اگر خدا نے گناہوں میں ملوث انسانیت کی نجات کی خاطر مرنے کا فیصلہ کیا تو اس کا بجز اس کے اور کوئی مطلب نہیں ہو سکتا کہ خود خدا نے موت کو قبول کیا نہ کہ اس کے کسی ایک پہلو یا حیثیت نے ایسا کیا۔سو جہاں تک زیر نظر معاملہ کا تعلق ہے اس کی رو سے اگر خدا کے ایک پہلو نے گناہگار انسانیت کو گناہ کی آلودگی سے نجات دلانے کے لیے اہم کردار ادا کیا تو اس کا ایک ہی مطلب لیا جاسکتا ہے کہ خدا کی صفات میں سے ایک صفت یعنی صفت رحم کا ظہور عمل میں آیا اور اس کا ظہور انسانیت کی نجات پر منتج ہوا لیکن اگر خدا کے ایک پہلو یا اس کی ایک صفت یعنی صفت رحم کو ایک مجسم شخصیت قرار دے کر اس کا نام یسوع مسیح رکھ دیا جائے اور کہا یہ جائے کہ اس نے جان کی قربانی دے کر گناہ گار انسانیت کو نجات دلائی تو جان دینے کے نتیجہ میں موت وارد ہو گی خود خدا کی صفت رحم پر۔کیسا عجیب تضاد ہے یہ کہ خدا کے رحم نے گناہ گار انسانیت پر اچھا ترس کھایا کہ اس ترس کھانے کے نتیجہ میں خود کشی کا ارتکاب کر ڈالا۔اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تین رات تک ( یعنی جب تک مسیح مرارہا) خدا میں کوئی رحم باقی نہ رہا تھا۔یہ امر یاد رہے کہ اس منظر نامہ میں یسوع کو ایک جداگانہ آزاد شخصیت کے طور پر پیش نہیں کیا جارہا بلکہ اسے پیش کیا جارہا ہے خدا کے ایک پہلو یا اس کی ایک صفت کے طور پر۔اس لحاظ سے اس منظر نامہ میں