مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 108

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 108 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اور اس قسم کی بعض اور سوالات ابتدائی زمانہ میں پیدا نہ ہوئے ہوں تو بعد کی صدیوں میں جبکہ از روئے تاریخ مسیح کی پر اسرار زندگی کے بارہ میں مسیحی علما اور ماہرین دینیات کے مابین فلسفیانہ بحثوں کا سلسلہ چھڑا تو ذہنوں میں اس قسم کے سوالات نے کچھ کھلبلی نہیں مچائی ہو گی۔لگتا یہ ہے کہ بعض بے اصول اور غیر ذمہ دارانہ کا تبوں اور نقل نویسوں نے اس مشکل میں سے نکلنے اور اس جھنجھٹ سے جان چھڑانے کے لئے سینٹ مرقس کی انجیل میں تصرف سے کام لیتے ہوئے آخری بارہ آیات کا اپنی طرف سے اضافہ کر دیا ہو گا اور اس کی طرف یہ جھوٹا بیان منسوب کر یا ہو گا کہ آخر میں مسیح اس جسم کے ساتھ آسمان سے بلند ہو تا اور اوپر کی طرف چڑھتا ہوا نظر آیا۔جھوٹی باتیں گھڑنے والے ذہنوں نے سینٹ لوقا کی انجیل کو بھی نہیں بخشا ہو گا اور اس میں بھی تحریف کر ڈالی ہو گی اور اس کے باب 24 کی آیت 51 میں بڑی ہوشیاری سے کیے گئے ان الفاظ کے اضافہ نے کہ ”اس کو آسمان پر اٹھالیا گیا تحریف کرنے کے مقصد کو پورا کر دکھایا ہو گا۔اس طرح اس نے سوالات کی بھر مار کے طویل سلسلہ کو ہمیشہ کے لئے بند کرنے کا بند وبست کر دیا ہو گا۔اور مسیحی عقیدہ کا کم از کم ایک بھید حل ہونے کی راہ نکل آئی ہو گی۔لیکن یہ راہ نکالی بھی تو کس قیمت پر ؟ ظاہر ہے راہ نکالی یسوع مسیح کی مقدس شخصیت سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ و پر و قار حقائق کی قربانی دے کر۔سو گویا اتنی بھاری قیمت ادا کی کہ حقائق کی قربانی دے کر۔سو گویا اتنی بھاری قیمت ادا کی کہ حقائق کو فسانہ طرازی اور داستاں سرائی کی بھینٹ چڑھا ڈالا۔بس پھر کیا تھا چل سو چل حقائق سے فسانے کی طرف مسیحیت کا سفر ایسا شروع ہوا کہ بلاروک ٹوک اور بے دھڑک آگے سے آگے ہی چلتا چلا گیا۔ہمارے علم کی رُو سے یہ بات یقینی ہے ( اور ایسا ہو نانا گزیر تھا) کہ مسیح کے مردہ جسم کو نہ پاکر یہودی بہت برہم اور پریشان ہوئے۔(متی باب 28 آیات 11 تا 15)۔وہ مسیح کی موت کا حتمی اور یقینی ثبوت حاصل کرنا چاہتے تھے اس کے لئے انہیں ہمہ گیر نوعیت کا مسلمہ ثبوت در کار تھا اور وہ تھا مر دہ جسم کا موجود اور دستیاب ہونا۔حتمی ثبوت کے ناپید ہونے پر ان کا پیلاطوس کے پاس شکایت لے جانا ان کی بے چینی اور بے کلی کو واضح طور پر آشکار کر دکھاتا ہے۔(متی باب 27 آیات 62 تا64) اگر دیکھا جائے تو سادہ اور حقیقی جواب اس حقیقت میں پنہاں تھا کہ چونکہ مسیح اس طور پر نہیں مرا تھا جس طور پر یقین کر لیا گیا تھا اس لئے جسم کے غائب ہونے کا سوال تھا ہی سرے سے بے محل۔اس نے تو یقیناً اپنے وعدہ پر قائم رہتے ہوئے اسرائیل کے گھرانے کی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں یہودیہ کو خیر باد کہہ دینا تھا۔ظاہر ہے وہاں سے ہجرت کر جانے کے بعد وہ دوبارہ وہاں نظر نہیں آسکتا تھا۔