مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 103
103 زندگی کی بحالی یا احیائے موتی؟ انہوں نے اپنی زندگی کے بعض بہت ہی حسین اور بیش قیمت لمحات گزارے تھے۔اس میں کیا شک ہے کہ انہیں ایک درد ناک عذاب میں مبتلا کر دیا گیا ہو گا کیونکہ محض گھناؤنا استہز اہی نہیں تھا جو انہیں اذیت پہنچارہا تھا بلکہ وہ اس سے کہیں بڑھ کر تعزیر و تعذیب کے بظاہر نہ ختم ہونے والے سلسلہ سے دوچار تھے کیونکہ یسوع مسیح کے خلاف شکایتوں، مؤاخذے، پکڑ دھکڑ ، باز پرس، عدالتی کارروائی کے چکر اور صلیب پر مار ڈالنے کی کوشش کے طویل عمل نے اسے بے عزتی اور بے حرمتی کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی تھی۔میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اس زمانہ کے آزاد مغرب کے عیسائی ضمیر کروڑوں کروڑ مسلمانوں کو پہنچنے والی اذیت اور کرب کو سمجھنے اور اس کا احساس کرنے کی کچھ تو کوشش کریں جنہیں ان کے جان و دل سے عزیز آقا محمد رسول اللہ صلی الی ایم کی ذات اقدس اور ان کے قدسی صفات صحابہ کے خلاف ایسی ہی غیر انسانی اور سر اسر اخلاق سوز زبان استعمال کر کے کچھ کم مبتلائے عذاب نہیں کیا جاتا۔ابتدائی مسیحیوں کو یہ سب دکھ ، اذیت اور عذاب جھیلنا پڑا اور اس امر کے باوجود جھیلنا پڑا کہ یہ بات ان کے ذاتی علم میں تھی اور اس کے ناقابل تردید ثبوت موجود تھے کہ مسیح زندہ تھا اور اس کی موت کے بارہ میں یہودیوں کے فخریہ ڈھنڈورا پیٹنے اور آسمان سر پر اٹھانے کے علی الرغم صلیب پر مرا نہ تھا۔ان ابتدائی مسیحیوں نے مسیح کے صلیب پر سے اترنے کے بعد خود اپنے ہاتھوں سے اس کے زخموں کا علاج کیا تھا۔اس کا جسم اس حال میں کہ اس پر بے ہوشی اور سکنہ کا عالم طاری تھا ان کے حوالہ کیا گیا تھا۔انہوں نے اسے اس گہری بے ہوشی اور سکنہ کی حالت سے باہر آتے اور معجزانہ طور پر شفایاب ہوتے دیکھا تھا۔انہوں نے اسے سائے، بھوت پریت یا روح کی شکل میں نہیں بلکہ اسی کمزور اور نقاہت زدہ انسانی جسم کی شکل میں دیکھا تھا جس نے خدا کی راہ میں حق و صداقت کی خاطر بے انتہا دکھ اٹھائے تھے۔ان بظاہر جان لیوا دکھوں اور تکلیفوں کے باوجو د وہ موت کے منہ سے بچ نکلا تھا۔انہوں نے اس سے باتیں کی تھیں، اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا تھا اور اسے راتوں کو چھپتے چھپاتے ، قدم بقدم چلتے اور صلیب والی جگہ سے دور سے دور تر ہوتے اور اس علاقہ کو خیر باد کہہ کر وہاں سے ہجرت کرتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔آسمان کی طرف اٹھایا جانا سینٹ منی (St Matthew) اور سینٹ جان St۔John) نے اپنی انجیلوں میں مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر تک نہیں کیا ہے۔اگر واقعی مسیح آسمان پر اٹھایا گیا تھا تو ایسے اہم واقعہ کا ان انا جیل میں