مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 102 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 102

لکھتے ہیں: مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 102 "(Sanhedrin (67a میں یہ بھی لکھا ہے: یہ ہے وہ کچھ جو انہوں نے لد (Lud) میں ستادا (Stada) عورت کے بیٹے کے ساتھ کیا۔انہوں نے عید فسح کی شام کو اسے صلیب پر نکا دیا۔ستادا کا یہ لڑکا فرزند تھا پنڈیرا (Pandira) کا۔ربی چاسدا (Chasda) ہمیں بتاتا ہے کہ پنڈیرا، ستاد ا کا خاوند تھا، وہی ستادا جو اس آدمی کی ماں تھی اور وہ یہودا کے بیٹے پافس (Paphus) کے زمانہ میں وہاں رہتا تھا“۔- Sanhedrin (67a) مندرجہ بالا فقرات درج کرنے کے بعد ریورنڈا آئی بی پر انائٹس نے اپنی مذکورہ کتاب ”دی طالمود ان ماسکڈ میں یہ تبصرہ کیا ہے: ” ان فقرات کا مطلب یہ ہے کہ یہ مریم ہی تھی جو ستاد کہلاتی تھی۔ستادا کہتے ہیں کچھی کو کیونکہ بمبارتا (Pambadita) میں جو کچھ پڑھا جاتا تھا اس کی رو سے اس عورت نے اپنے خاوند کو چھوڑ دیا اور زنا کی مرتکب ہوئی۔یہی بات یروشلم، طالمود اور میمونائڈز Jerusalem) (Talmud & Maimonides میں بھی لکھی ہے۔جو لوگ ایسی شیطانی کذب بیانیوں میں یقین رکھتے ہیں وہ زیادہ نفرت اور ملامت کے سزاوار ہیں یا زیادہ رحم کے۔اس بارہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔“ یہ تبصرہ بلاشبہ ایک بے بس اور بے چارے مظلوم دل کی کرب و اذیت کی آئینہ دار ایک پیچ یا پکار ہے۔یہ مظلوم دل اس کے اپنے محبوب آقا کے خلاف ایک کٹر جنونی مخالف کی طرف سے کیسے جانے والے تمسخر اور استہزا اور اہانت پر بے اختیار تڑپ اٹھا ہے۔ابتدائی مسیحیوں کو تو اس زمانہ کے سنگدل یہود کی طرف سے روار کھے جانے والے تمسخر و استہزا اور اہانت وذلت پر اس سے کہیں زیادہ اذیت اٹھانا پڑی ہوگی حتی کہ ان مظلوموں کی زندگی تو ان کے لئے جہنم بن گئی ہو گی۔انہیں تو ان دشنام طرازیوں اور دل پاش و جگر خراش گندہ دہنیوں کی اذیت سہنا پڑی ہو گی جن کا نشانہ کسی ایسے پیارے وجود کو نہیں بنایا جار ہا تھا جس کی یاد ماضی بعید کے دھندلکوں میں مدھم پڑ گئی ہو بلکہ وہ تو اس مقدس وجود کے خلاف دشنام طرازیوں اور استہز اؤں کی نا قابل بیان اذیت سہ رہے تھے جس کی یادیں ابھی تازہ اور زندہ تھیں، جیسے انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جس کی دل نواز باتوں کو اپنے کانوں سے سنا تھا اور جس کی پاک تریاق صحبت میں