مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 101
101 زندگی کی بحالی یا احیائے موتی؟ بلکہ اس کا حمل بھی ایام حیض میں ٹھہرا تھا۔جب معترضین نے یہ سنا تو انہوں نے کہا بلاشبہ ربی اکیباہ عظیم ہے اس نے تو اپنے بڑوں کی غلطی دور کر دکھائی۔“ پھر انہوں نے بڑے جذبہ سے کہا ”اسرائیل کے خداوند خدا کی تقدیس بلند ہو جس نے ربی اکیباہ بن یوسف پر اپنا غیب ظاہر کیا۔“ اب رہا یہ امر کہ یہودیوں کے نزدیک اس کہانی کا تعلق مسیح اور اس کی ماں مریم سے ہے تو اس کا صاف اور واضح الفاظ میں ذکر ان کی کتاب Toldath Jeshu ( مسیح کی نسل) میں موجود ہے۔اس میں ہمارے نجات دہندہ (یسوع مسیح کا ذکر قریباً انہی الفاظ میں کیا گیا ہے۔" (The Talmud Unmasked by Rev۔I۔B۔Pranaitis Part I, Chapter 1, Page 30) مسیح کے مخالف و معاند یہودیوں نے اپنے لٹریچر میں مسیح کے مقدس نام اور ذات پر جس طرح کیچڑ اچھال اچھال کر عفونت و غلاظت اور گندگی کی بھر مار کی ہے اس پر انسانی شرافت و شائستگی گھن کھاتی اور سر پیٹ کر رہ جاتی ہے۔یقیناً مسیح مریم نامی ایک پاک دامن ، مقدس و مظہر خاتون کے حاملہ ہونے سے تولد ہوا اور اس حمل کے ٹھہر نے میں ہمارے خداوند قدوس کی لامتناہی تخلیقی قدرتوں کے سوا کسی اور کا کوئی دخل یا تعلق نہ تھا۔کسی بدروح کی مجامعت سے ایام حیض میں حمل ٹھہرنے کا نظریہ اس عفونت بھرے دماغ پر زیادہ موزونیت کے ساتھ صادق آتا ہے جس میں اس شر عظیم کا خیال پیدا ہوا۔افسوس ! ان بد باطن اور بد قماش لوگوں کی زبانیں اور قلمیں جو یکساں زہر اگلتی اور غلاظت بکھیرتی ہیں نہ مقدس و مظہر خاوندوں کی ازواج کو متہم کرنے سے باز آتی ہیں اور نہ ان کی ماؤں پر تہمتیں لگانے میں عار محسوس کرتی ہیں۔اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ایسا گالیاں دینے والا اور گند بکنے والا دو ہزار سال پہلے گزرا تھا یا عصر حاضر کی دنیا میں پیدا ہوا۔کس قدر حیران کن ہے یہ امر آج کی مہذب کہلانے والی سوسائٹیاں اور معاشرے ایسی بہیمیت پر اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ قلم اور زبان کی آزادی کے نام پر ایسی بھیانک اور سنگین دل آزاریوں کی اجازت دینے اور ان کی تصدیق کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔سلمان رشدی نے بادی اسلام حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی ازواج مطہرات کے خلاف جو زبان استعمال کی ہے وہ اس گندہ دہنی سے مختلف نہیں ہے جو مسیح کی پارسا پاک دامن اور مطہر والدہ کے لیے یہود نے استعمال کی تھی۔پھر ریورنڈ پر انا کٹس نے اپنی مذکورہ کتاب میں طالمود کی بعض اور عبارتیں بھی درج کی ہیں۔وہ