مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 96
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 96 جسے زندہ رہنے کے لئے خوراک کی احتیاج نہ ہو۔اس وقت کی معروضی صورت حال سے یہ بھی ظاہر ہو تا ہے کہ ابتدائی زمانہ کے مسیحی عجب گومگو کی حالت میں مبتلا تھے۔وہ مسیح کے زندہ بچ رہنے کو خفیہ رکھنے کی خاطر دو طرح کی باتیں کرنے پر مجبور تھے۔جب وہ یہ کہتے تھے و مسیح مردوں میں سے جی اٹھا ہے تو انہیں شکی مزاج لوگوں سے بھی واسطہ پڑتا تھا اور وہ کسی مردہ جسم کے دوبارہ زندہ ہو جانے کو احمقانہ نظریہ قرار دیتے تھے۔ایسی صورت میں ابتدائی زمانہ کے مسیحی مجبور ہو جاتے تھے کہ حشر نشر کے رنگ میں زندہ ہونے کا سہارا لیں کیونکہ اس کی فلسفیانہ اور منطقی توجیہہ پیش کی جاسکتی تھی۔کر نتھیوں کے نام پولوس کا خط خاص طور پر بیک وقت دو کشتیوں میں پاؤں رکھنے کی حالت گو مگو کا مطالعہ کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔واقعہ صلیب کے بعد مسیح کے متعلق ابتدائی مسیحیوں کے بیانات کا جائزہ لینے سے امر واقعہ کی دوصور تیں ابھر کر سامنے آتی ہیں جن میں سے ایک ہی قابل قبول قرار پاسکتی ہے۔وہ مسیح جو واقعۂ صلیب کے بعد جلد ہی اپنے شاگردوں اور دوستوں کو نظر آیا جس نے ان سے باتیں کیں، جو ان کے ساتھ رہا اور جو اکثر و بیشتر رات کی تاریکی میں چلتا اور سفر کرتا ہو اصلیب والے علاقہ سے رفتہ رفتہ دور ہو تا چلا گیا وہ یقیناً ایسا شخص نہیں تھا جو حشر نشر کے طور پر احیائے موتی کے رنگ میں زندہ کیا گیا ہو بلکہ وہ ایک ایسا شخص تھا جو یا تو مردہ جسم میں زندگی کے عود کرنے یا بحال ہونے کی وجہ سے جی اٹھا تھا۔یا پھر وہ ایسا شخص تھا جو مرا ہی نہ تھا بلکہ معجزانہ طور پر قریب المرگ حالت سے باہر آکر موت کے منہ میں جانے سے بچ گیا تھا۔وہ موت کے یقینا اس قدر قریب تھا کہ اس کی حالت یونس نبی کی اس حالت کے مشابہ ہوگئی تھی جو اس کی مچھلی کے پیٹ میں ہوئی تھی۔اس بارہ میں ہمارے ذہن میں قطعاً کوئی شبہ نہیں ہے کہ مؤخر الذکر صورت ہی ہر لحاظ سے واحد قبول صورت ہو سکتی ہے۔اس خاطر کہ مسیحی صاحبان ہمارے نقطہ نظر کو آسانی سے سمجھ سکیں میں ایسا ہی یعنی اس سے ملتا جلتا ایک فرضی واقعہ بیان کرتا ہوں۔فرض کیجئے یہی کہانی زندگی میں حقیقی طور پر آج بھی دہرائی جاتی ہے جو مفروضہ فی الوقت پیش نظر ہے اس کی رو سے کسی شخص کو صلیب دے کر جان سے مارنے کی کوشش کی جاتی ہے اور نتیجہ اسے مردہ قرار دے دیا جاتا ہے یعنی سمجھ یہ لیا جاتا ہے کہ اس کا کام تمام ہوا۔بعد میں وہی شخص اپنے بعض ساتھیوں کو گھومتا پھرتا نظر آتا ہے۔وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس کے ہڈیوں اور گوشت پوست کے جسم پر صلیب کے نشان بھی موجود ہیں اور ان نشانوں کے ساتھ ہی وہ چل پھر رہا ہے۔اسے دوبارہ پکڑ کر قانون کی گرفت میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ہوتا یہ ہے کہ اسے عدالت میں پیش کر کے