مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 89

89 زندگی کی بحالی یا احیائے موتی؟ ترتیب اس امر پر دال ہو گی کہ ان خلیوں کی حیثیت بالکل نئے خلیوں کی ہو گی اور وہ نئے ہونے کی وجہ سے سابقہ یاد داشتوں سے عاری ہوں گے اس لئے مسیح کی سابقہ حیات سے تعلق رکھنے والے جملہ امور و واقعات کو جو مسیح کے وفات یافتہ ذہن سے محو ہو گئے تھے ان نئے تعمیر کر دہ خلیوں میں داخل کرنا پڑا ہو گا۔یہ ایک ایسا طولانی سلسلہ عمل ہے جس کا از روئے سائنس و قوع میں آنا ممکن ہی نہیں۔علم حیاتیات کی رو سے مردہ اجسام کے بالمقابل زندگی مشتمل ہوتی ہے دماغ میں پائے جانے والے ب ہا ارب اقل ترین بنیادی ذرات میں حواس خمسہ کی طرف سے مسلسل موصول ہونے اور ان میں سمانے والی اطلاعات کے احساس و شعور پر۔یہ اطلاعات اپنی جگہ ان بنیادی ذرات کی بے حد پیچیدہ اور باہم ایک دوسرے سے مربوط ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی ہوتی ہیں۔یہ اطلاعات حواس خمسہ میں سے ہر حس کی طرف سے موصول ہو ہو کر ان ٹکڑیوں میں شماریات کی طرح محسوب و محفوظ ہو رہی ہوتی ہیں۔اگر محفوظ ہونے والا یہ سارا حساب کتاب یکسر صاف ہو کر محو ہو جائے تو اس کے ساتھ ہی زندگی بھی معدوم ہو جاتی ہے۔لہذا مسیح کے دوبارہ زندہ ہو جانے کا مطلب یہ ہوا کہ پورے ساز و سامان کے ساتھ ایک نرم و نازک آلہ کے طور پر ایک نیا دماغی کمپیوٹر معرض وجود میں آکر روبہ عمل ہوا۔اسی پیچیدگی کا مسیح کے جسم کے تمام دوسرے حصوں کی کیمیاوی حالت کے ساتھ بھی پیش آنا لازمی ٹھہرا۔پورے مردہ جسم کو زندہ کرنے کے لئے بہت بڑے اور وسیع پیمانہ پر از سر نو تعمیر کے پورے کیمیاوی سلسلہ اور طریق کار کو دوبارہ حرکت میں لا کر اسے رو بعمل کرناضروری ہو گا تا کہ جو گوشت پوست اور دوسرا عضلاتی ساز و سامان انحطاط اور عمل تحلیل کے دوران ضائع ہوا ہے اسے اس کی اصل حالت پر واپس لایا جا سکے۔ایسا عظیم معجزہ ظاہر ہونے پر ایک الجھن سے بھی واسطہ پڑے گا۔سوال پیدا یہ ہو گا کہ زندہ کون ہوا اور کیا اثر ظاہر ہوا اس کا؟ کیا یہ سب کچھ اس انسان کے ساتھ ہواجو مسیح کی ذات میں پوشیدہ تھا یا اس خدا کے ساتھ ہوا جو انسان کے پہلو بہ پہلو مسیح کے اندر موجود تھا۔بحیثیت انسان مسیح کی ذات اور ہستی کی اہمیت کو سمجھنے پر ہم اسی لئے تو زور دے رہے ہیں تا کہ اس نوعیت کی لامنجل الجھنیں سرے سے پیدا ہی نہ ہوں۔مسیح کے حالات زندگی میں جب کبھی اور کہیں یہ نظر آتا ہے کہ خدا کا بیٹا ہونے کے باوجود وہ اعلیٰ و برتر طاقتوں اور قدرتوں کے اظہار میں ناکام رہا اور وہ کچھ نہیں کر سکا جو خدا کا بیٹا ہونے کی حیثیت میں اسے کرنا چاہیے تھا تو عیسائی صاحبان اپنے اس دعویٰ اور عقیدہ کی آڑ میں پناہ لے لیتے ہیں کہ وہ خدا ہونے کے ساتھ ساتھ انسان بھی تو تھا سو اس سے جب کمزوری کا اظہار یا غلطی کا ارتکاب ہوا تو خدا ہونے کی حیثیت