مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 84
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 84 عیسائیوں کے بقول رہا یہ سوال کہ مسیح مرنے اور پھر جی اٹھنے کے بعد شاگردوں کے روبہ رو روحانی وجود میں ظاہر ہو تا رہا اس کی تردید اور نفی کسی اور نے نہیں بلکہ خود مسیح نے کی اور کی بھی بڑے ہی پر زور انداز میں۔جب وہ اپنے شاگردوں کے سامنے ظاہر ہوا تو وہ اس کے بارہ میں اپنے خوف کو چھپا نہیں سکے کیونکہ یہ پر خوف مغالطہ ان میں سے بعض کو لاحق تھا کہ یہ مسیح خود نہیں ہے بلکہ اس کی روح ہے جو ان کے سامنے آموجود ہوئی ہے۔ان کی اس الجھن کو اچھی طرح بھانپتے ہوئے مسیح نے ان کے اس خوف کو یہ کہہ کر دور کیا کہ وہ روح نہیں ہے۔( یعنی روحانی وجود میں ظاہر نہیں ہوا ہے) اس نے بہ اصرار کہا کہ وہ وہی مسیح ہے جسے صلیب دی گئی تھی۔اس نے انہیں اپنے زخم دکھائے جو ابھی تازہ ہی تھے۔(یوحنا باب 20 آیات 19 تا27)۔اس کے اپنے شاگردوں کے روبرو ظاہر ہونے سے یہ امر کسی طور پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا تھا۔اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد زندہ بچ رہا تھا۔ایسا معلوم ہو تا ہے کہ شاگردوں میں سے اگر کسی کے ذہن میں غلط فہمی کا کوئی شائبہ تھا بھی تو مسیح نے خود اپنے فعل سے اسے دور کر دیا۔اس نے اپنے شاگردوں کو اس وقت کچھ کھاتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا وہ کیا کھارہے ہیں؟ جب اسے بتایا گیا کہ وہ روٹی اور مچھلی کھارہے ہیں تو اس نے کھانے کے لئے کچھ مانگا کیونکہ اس وقت اسے خود بھی بھوک لگ رہی تھی۔چنانچہ اس نے اپنی بھوک دور کرنے کے لئے اس میں سے کچھ کھایا۔اس کا روٹی اور مچھلی مانگ کر کھانا اور اپنی بھوک دور کرنا اس خیال عقیدہ کے خلاف ایک بین ثبوت ہے کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا تھا اور اس جی اٹھنے کی وجہ سے اس کی انسانی فطرت میں جو ایک دفعہ مرگئی تھی دوبارہ زندگی عود کر آتی تھی۔اس سارے عقیدہ کے غلط ہونے کا یہ ایک ایسا پختہ اور حتمی ثبوت ہے کہ اس میں شک وشبہ کی حبہ برابر بھی گنجائش نہیں۔لو قاباب 24 آیت 41 تا 42) مسیح کے دوبارہ جی اٹھنے کا اگر یہ مفہوم لیا جائے تو دہری نوعیت کے مسائل سر اٹھائے بغیر نہیں رہتے۔جیسا کہ جی اٹھنے سے پہلے اس کے متعلق دعویٰ کیا جاتا تھا اس کے مطابق جی اٹھنے کے بعد بھی وہ خدا اور انسان کے ملغوبہ سے معرض وجود میں آنے والی ایک نئی نوع سے تعلق رکھتا تھا تو اس کے وجود میں آنے والی ایک نئی نوع سے تعلق رکھتا تھا تو اس کے وجود میں موجود انسان سے چھٹکارا تو اسے حاصل نہ ہوا۔اس سے تو بہت ہی الجھی ہوئی پیچیدہ اور مشکوک و مشتبہ صورت حال پیدا ہو کر عجب جنجال میں مبتلا کر دیتی ہے۔