مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 83
83 صلیب اور اس سے متعلقہ امور اس نے پھر کبھی مرنا ہی نہ تھا تو پھر وہ اپنے دشمنوں کی نگاہوں میں آنے سے بچتا کیوں پھر تا تھا یعنی حکومت کی ایجنسیوں اور عوام دونوں سے کترانے اور بچنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اسے تو چاہیے تھا کہ وہ اپنے آپ کو یہودیوں اور سلطنت روما کے نمائندوں کے سامنے ظاہر کرتا اور ان سے کہتا ”لو دیکھو! میں اپنی ابدی زندگی کے ساتھ تمہارے سامنے موجود ہوں۔اگر تم میں ہمت ہے اور چاہتے ہو تو مجھے دوبارہ مار دو، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ تم ایسا کرنے پر کبھی قادر نہیں ہو سکو گے لیکن ہوا کیا ایسا کرنے کی بجائے اس نے چھپے رہنے اور چھپتے پھرنے کو ترجیح دی۔پھر بات یہ بھی نہ تھی کہ کسی نے اسے یہ تجویز پیش نہ کی یا یہ ترکیب نہ سمجھائی کہ وہ اپنے آپ کو بے دھڑک عوام کے سامنے پیش کر دے بلکہ بر خلاف اس کے ہوا یہ کہ با قاعدہ طور پر اس کے سامنے یہ تجویز رکھی گئی کہ اپنے آپ کو دنیا پر ظاہر کر دے اور دنیا کو علی الاعلان بتادے کہ وہ زندہ موجود ہے لیکن اس نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا۔بر خلاف اس کے وہ اپنے آپ کو یہودیہ سے دور سے دور تر کرتا چلا گیا تا کہ کوئی اس کا تعاقب نہ کر سکے۔چنانچہ لکھا ہے: ”یہودا (جو اسکر یوطی تھا) نے اس سے کہا کہ اے خداوند ! یہ کیا بات ہے کہ تو اپنے آپ کو ہم پر تو ظاہر کیا چاہتا ہے مگر دنیا پر نہیں۔“ (یوحنا باب 14 آیت 22) لو قاباب 24 آیت 28، 29) اتنے میں وہ اس گاؤں کے نزدیک پہنچ گئے جہاں جانا چاہتے تھے اور اس کے (یعنی مسیح کے) ڈھنگ سے ایسا معلوم ہوا کہ گویا وہ آگے جانا چاہتا ہے۔انہوں نے اسے یہ کہہ کر مجبور کیا کہ ہمارے ساتھ رہ کیونکہ شام ہو ا چاہتی ہے اور دن اب ڈھل گیا ہے پس وہ اندر گیا تا کہ ان کے ساتھ رہے۔“ یہ صورت حال تو ایک ایسے فانی انسان کا نقشہ پیش کر رہی ہے جو موت کی پہنچ سے باہر نہیں ہے اور نہ ہی اس امر سے مبرا ہے کہ اسے کوئی جسمانی طور پر گزند پہنچا سکے۔اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان معنوں میں مرا نہیں تھا کہ وہ بقول عیسائی صاحبان) اس میں موجود انسانی جزو یا اپنی عام انسانی حیثیت سے مخلصی پالے بلکہ اس کی فطرت جو کچھ بھی تھی علی حالہ قائم رہی۔موت سرے سے واقع ہی نہیں ہوئی جو نئی فطرت سے پرانی فطرت کے جد اہونے کا سوال پیدا ہو تا۔انسانی تجربہ کی رو سے ہم اس کو زندگی کا تسلسل ہی قرار دیتے ہیں۔ایک ایسی روح جس کا تعلق اگلے جہان سے ہو یقیناً اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کرتی جس طرح کا رویہ مسیح نے رات کی تاریکی میں خفیہ ملاقاتوں کے دوران اپنے قریبی دوستوں اور پیر وؤں کے ساتھ روار کھا۔