مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 57

57 گناہ اور کفارہ گا؟ اگر اس پورے عمل کو مسیح کے جی اٹھنے اور از سر نو زندہ ہو جانے سے ہی تعبیر کرنا ہے تو پھر یہ بھی لازم آتا ہے کہ اس کے ساتھ اس کے جسم کو بھی دوام حاصل ہو گیا ہو گا۔لیکن بائبل میں ہم جو کچھ پڑھتے ہیں وہ بالکل ہی مختلف کہانی ہے۔اس کہانی کے مطابق مسیح اسی جسم میں جس میں کہ صلیب دی گئی تھی دوبارہ داخل ہو کر مردوں میں سے جی اٹھا تھا اور اسی جی اٹھنے کو ہی مرنے کے بعد دوبارہ زندگی پانے کا نام دیا جاتا ہے۔اگر ایسا ہی ہوا تھا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسی جسم کو دوبارہ ترک کرنے کو کیا معنی پہنائے جائیں گے ؟ کیا اسے دوبارہ ترک کرنا دوسری موت کے مترادف نہ ہو گا؟ اگر مسیح کا جسم سے پہلی بار کوچ کرنا موت کی آغوش میں جانا تھا تو پھر اسے دوسری بار ترک کرنے کے بارہ میں تسلیم کر لینا چاہیے کہ وہ ہمیشہ کے لئے مر چکا ہے۔جب روح پہلی بار جسم کو چھوڑ جاتی ہے تو تم اسے موت قرار دیتے ہو۔جب وہ دوبارہ اسی جسم میں واپس آتی ہے تو تم اسے موت کے بعد کی زندگی قرار دیتے ہو۔لیکن جب وہ اسی جسم کو دوبارہ چھوڑ جاتی ہے اور چھوڑ بھی جاتی ہے کبھی واپس نہ آنے کے لئے تو اس کے ہمیشہ کے لئے چلے جانے کو تم کیا نام دو گے ؟ کیا اسے فہم و ادراک سے بلا مسیحیت کی چیستانی زبان میں دائی موت کہا جائے گا یا پھر ایسی دائمی موت کو بھی دائمی حیات کا نام دیا جائے گا؟ موت، موت ہی ہوتی ہے یہ دائی موت ہی کہلائے گی اس کے سوا اور کچھ نہیں۔اس سارے معاملہ پر جتنا بھی غور کیا جائے ایک تضاد کے بعد دوسرا تضاد نکلتا چلا آتا ہے اور تضاد پر تضاد سے واسطہ پڑتا چلا آتا ہے۔یقیناً اس پر غور و فکر ایک اعصاب شکن تجربہ سے کسی طرح کم نہیں! اب اگر یہ کہا جائے کہ دوسری مرتبہ جسم کو ترک نہیں کیا گیا تو بہت ہی عجیب و غریب صورت حال ابھر کر سامنے آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ”باپ خدا “ تو ایک لا محدود اور غیر فانی روحانی وجود کے طور پر اپنے موجود ہونے کا ثبوت دے رہا ہے جبکہ ”بیٹا ایک فنا ہو جانے والی ہستی کی حدود و قیود میں مقید چلا آرہا ہے۔غیر محدود گناہوں کی برائے نام سزا مسیحیوں کی طرف سے خیال آفریں انداز میں کہنے کو یہ بھی کہا جاسکتا ہے اور بعض کہتے بھی ہیں کہ یہ ہمیشہ ضمیر کے باطنی کچوکے اور ان کے نتیجہ میں اٹھنے والی ٹیسیں ہی نہیں ہو تیں جو ان لوگوں کو انتہائی تکلیف دہ حالات سے دو چار کرتی ہیں جو اپنے قصوروں اور گناہوں کے بارہ میں بہت حساس واقع ہوتے ہیں۔بر خلاف اس کے دوسروں کے دکھوں اور مصائب پر انتہائی ہمدردی اور غم خواری کا جذبہ بھی کسی انسان کو جو خود مکمل یا جزوی طور پر معصوم و بے خطا ہو روحانی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے اور ان کی یہ حالت مسلسل