مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 32
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 32 کرے۔یہ تو بذات خود انصاف کا مذاق اڑانے والی بات ہے۔ہم خدائی صفات کے پر تو کے زیر اثر انہی کی ہم رنگ یا ملتی جلتی صفات کے ساتھ پیدا کئے گئے ہیں۔خود مسیحیوں کے عقیدہ کی رو سے بھی خدا نے یہی بتایا ہے اور بائبل میں اس امر کا ہی اعلان کیا ہے۔چنانچہ بائبل میں آتا ہے: ” پھر خدا نے کہا ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں گے “ اور اسی تعلق میں خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ( پیدائش باب اول آیت 26) (الروم:31) تو اللہ کی پیدا کی ہوئی فطرت کو اختیار کر۔(وہ فطرت) جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔یہ عقیدہ جو عیسائیوں اور مسلمانوں میں مشترک ہے بتاتا ہے کہ انسانی ضمیر کسی بھی موقع پر خدائی فعل کو اپنے اندر منعکس کرنے والا بہترین آئینہ ہے۔یہ ہمارے روز مرہ کے تجربہ کا ایک حصہ ہے کہ بہت دفعہ ہم انصاف کے تقاضے میں خفیف سا رخنہ ڈالے بغیر قصور واروں کو معاف کر دیا کرتے ہیں۔اگر ذاتی طور پر ہمیں دکھ پہنچایا گیا ہے تو ایسے جرم میں جو ہمارے خلاف روار کھا گیا ہے ہم معاف کرنے میں جتنا چاہیں آگے بڑھ سکتے ہیں اور اپنے معاف کرنے کے جذبہ کو اونچے سے اونچے معیار تک لے جاسکتے ہیں۔اگر کوئی بچہ اپنے ماں باپ کی نافرمانی کر کے یا گھر کی بعض قیمتی چیزیں خراب کر کے یا اپنی بعض حرکتوں سے ان کے لئے بدنامی کا موجب بن کر انہیں دکھ پہنچاتا ہے تو وہ ان کی نگاہ میں خطا کار اور ان کا قصور وار ہو تا ہے۔اس کے والدین چاہیں تو وہ اسے معاف کر سکتے ہیں۔اور جب وہ معاف کر دیتے ہیں تو ایسا کرنے میں وہ اپنے ضمیر میں کوئی کھٹک محسوس نہیں کرتے اور نہ ان کا ضمیر انہیں ملامت کرتا ہے کہ انہوں نے کسی لحاظ سے بھی انصاف کے تقاضے کی خلاف ورزی کی ہے۔برخلاف اس کے اگر ان کا بچہ کسی ایسی چیز کو توڑ پھوڑ کر تباہ کر دیتا ہے جو ان کے پڑوسی کی ملکیت ہے یاوہ کسی اور شخص کے بچہ کو زخمی کر دیتا ہے تو وہ اپنے بیٹے کے اس فعل کو جس کی رو سے وہ دوسروں کو دکھ پہنچانے کا موجب ہوا ہے خود کیسے معاف کر سکتے ہیں۔اگر وہ ایسا کریں تو ان کا ضمیر خود ان کے اس فعل کو نا انصافی قرار دے گا۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جرم اور سزا کے درمیان پائے جانے والے تعلق یارشتہ کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ان دونوں کے درمیان پائے جانے والے تعلق کی نوعیت علت اور معلول کے باہمی تعلق کے عین