مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 30
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 30 کرنے والوں کو معافی دے دی جاتی ہے بشر طیکہ وہ مرتے وقت زندگی کے آخری لمحوں میں یسوع مسیح پر ایمان لے آئیں۔انہوں نے جن انسانوں کو بے انداز ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اس کا حساب چکانے کا کوئی ذکر نہیں۔نسل در نسل جاری رہنے والے زندگی بھر کے وحشیانہ جرائم اور خطاؤں سے انہیں پاک وصاف اور مظہر بنانے کے لئے مسیح کے دوزخ میں گزارے ہوئے چند لمحے کافی سمجھ لئے گئے۔سزایابی کے سلسلہ کا جاری رہنا آیئے اب ہم ایک اور جرم اور اس کی نہایت خطرناک نوعیت پر غور کریں۔یہ جرم ایسی خطرناک نوعیت کا ہے کہ جس کے نتائج و عواقب کے بارہ میں انسانی فطرت یہ تسلیم ہی نہیں کر سکتی کہ وہ آگے بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔مثال کے طور پر ایک شخص بڑی بے دردی سے ایک بچہ کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔وہ اس کے ساتھ بد فعلی کا مرتکب ہوتا ہے اور پھر اسے قتل کر ڈالتا ہے۔یقینا یہ ایسا مکر وہ اور بھیانک جرم ہے جس سے انسانی احساسات و جذبات کو ناقابل برداشت صدمہ اور اذیت پہنچے گی۔فرض کر لیں کہ ایک ایسا بد کردار اور سفاک شخص ہر طرف اس سے بھی بڑھ کر قبیح جرائم کے ارتکاب سے لوگوں کو اذیتیں پہنچاتا پھر تا ہے۔وہ پکڑا نہیں جاتا اور اس طرح از روئے عدل اس کے کیفر کردار کو پہنچنے کی نوبت نہیں آتی۔وہ انسانی ہاتھوں سے سزا پائے بغیر اس دنیا میں زندگی گزار کر اس کے اختتام کے قریب پہنچ جاتا ہے۔وہ جزا سزا کے دن کی جواب دہی اور مہیب تر سزا سے بچ نکلنے کا تہیہ کرتے ہوئے زندگی کے آخری لمحوں میں مسیح کے نجات دہندہ ہونے پر ایمان لے آتا ہے۔کیا آخری لمحات میں ایمان لے آنے سے اس کے تمام گناہ یکدم کالعدم ہو کر رہ جائیں گے ؟ کیا اسے آزاد چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ ایک نوزائیدہ بچہ کی طرح گناہوں سے یکسر مبرا ہونے کی حالت میں بڑی سہولت اور آرام سے اگلے جہان کی طرف رحلت کر جائے؟ اس طرح تو ایسا شخص جو مسیح پر ایمان لانے کو موت کا وقت آنے تک ٹالتا چلا جاتا ہے اس شخص کی نسبت زیادہ سمجھ دار اور عقل مند ثابت ہو گا جو زندگی کے اوائل حصہ میں ہی ایمان لے آتا ہے۔ایمان لانے میں جلدی کرنے والے کے لئے یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کہیں شیطان کی خفیہ ترغیبات کے جال میں پھنس کر گناہوں کا ارتکاب نہ کرنے لگے۔بائیں صورت حال انسانوں کو یہ ترغیب ملتی ہے کہ کیوں نہ ہم موت کا وقت قریب آنے تک رکے رہیں اور اس طرح شیطان کو یہ موقع ہی نہ دیں کہ وہ ہمارے ایمان پر ڈاکہ ڈال کر اسے لوٹ لے۔وہ سوچ سکتے ہیں کہ یہ کیا ہی ستا سودا ہے کہ اس دنیا میں عیش و آرام