مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 23
23 گناہ اور کفارہ بغیر نہیں رہتا اور گہری سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کیا واقعی آدم اور حوا کا دور شروع ہونے سے قبل عور تیں بچے کی پیدائش کے وقت اٹھنے والی در دوں اور دیگر متعلقہ تکلیفوں سے بالکل نا آشنا تھیں اور کیا واقعی ان در دوں اور تکلیفوں کا آغاز آدم اور حوا کو ملنے والی سزا کے وقت سے ہوا۔کوئی سائنس دان ایسا نہیں مل سکتا جو تخیل کی ایسی بے تکی پرواز پر یقین رکھتا ہو۔سائنسی دریافتوں کے بعد سے ہمارے پاس اس امر کی وافر اور نا قابل تردید شہادتیں موجود ہیں کہ آدم اور حوا سے بہت پہلے ہی انسان کرہ ارض کے تمام بر اعظموں حتی کہ بحر الکاہل کے دور دراز جزیروں پر قابض ہو چکا تھا اور وہ اپنی بقا کے لئے سخت مشقت اٹھارہا تھا۔لہذا یہ کہنا کہ آدم اور حوا اس زمین پر سکونت اختیار کرنے والے پہلے انسان تھے اور یہ کہ انہوں نے گناہ کیا اور اس کی پاداش کے طور پر یہ سزا مقرر ہوئی کہ عورت دکھ درد میں مبتلا ہو کر بچہ جنے تاریخی طور پر غلط ثابت ہو چکا ہے۔کرہ ارض پر زندگی کے آغاز اور اس کے بعد کے ادوار کے بارہ میں جو بہت گہری اور وسیع ریسرچ منظر عام پر آچکی ہے اس نے اس نظریہ کی تردید کا کافی مواد مہیا کر دیا ہے۔بچہ کی پیدائش کے وقت دکھ اٹھانا ایک بدیہی امر ہے حتی کہ جانور بھی جو زندگی کی درجہ بندی میں بہت کمتر درجہ کی مخلوق شمار ہوتے ہیں درد کی کیفیت میں سے گزر کر بچے جنتے ہیں۔اگر انسان گائے بچھڑا جنتے دیکھے تو وہ مشاہدہ کر سکتا ہے کہ جس تکلیف میں سے وہ گزر رہی ہوتی ہے وہ بچہ جننے والی عورت کی تکلیف کے عین مشابہ ہوتی ہے۔اب کون ہے جو یہ نہیں جانتا کہ ایسے بہت سے جانور آدم اور حوا سے لاکھوں لاکھ سال پہلے اس زمین پر آباد تھے ؟ اب رہا محنت اور مشقت سے روزی کمانے کی سزا کا معاملہ۔سو اس بارہ میں بھی روئے زمین کے انسانوں کا بہ تسلسل روز مرہ یہ مشاہدہ ہے کہ انسان شروع ہی سے محنت اور مشقت سے روزی کماتا چلا آرہا ہے۔یہ کسی کے لئے بھی قطعا کوئی اچنبہ کی بات نہیں ہے۔عورتیں بھی اپنے گزر اوقات کے لئے محنت کی اول دن سے عادی ہیں اور ان سے بھی پہلے ہر زندہ شے اپنی خوراک محنت کے ذریعہ ہی حاصل کرتی چلی آرہی ہے۔محنت سے روزی کمانا یا خوراک حاصل کرنا ایک ایسی مبرہن حقیقت ہے جو زندگی کے ارتقا میں بنیادی محرک کی حیثیت رکھتی ہے۔تنازع للبقا یعنی زندگی کو قائم اور بر قرار رکھنے کی جد و جہد غالباً زندگی کا ابتدائی اور پہلا امتیازی نشان ہے جو اسے از قسم جمادات جملہ بے جان چیزوں سے ممیز و ممتاز کرنے والا ہے۔یہ امتیازی نشان کار خانہ قدرت کا ایک نمایاں اور درخشندہ مظہر ہے۔اس کا گناہ اور اس کی سزا کے ساتھ سرے سے کوئی تعلق یا واسطہ ہے ہی نہیں۔