مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 22

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک ( پیدائش باب 3 آیات 16 تا 19) 22 کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اس کی پیداوار کھائے گا۔وہ تیرے لئے کانٹے اور اونٹ کٹارے اگائے گی اور تو کھیت کی سبزی کھائے گا۔تو اپنے منہ (چہرہ) کے پسینہ کی روٹی کھائے گا جب تک کہ تو پھر زمین میں لوٹ نہ جائے اس لئے کہ تو اس سے نکالا گیا ہے۔تو خاک ہے اور خاک میں پھر لوٹ جائے گا۔“ اس کے بالمقابل جدید تحقیق کی رو سے جب آدم اور حوا پیدا ہوئے اس سے بہت پہلے سے بنی نوع انسان زمین پر موجود تھے۔خود مغربی سائنس دانوں نے زمانہ قبل از تاریخ سے تعلق رکھنے والے انسانوں کی بعض نعشیں یا ان کے بچے کھچے حصے دریافت کیے ہیں اور انہیں بعض نام دیئے ہیں تاکہ وہ ان کی شناخت اور امتیاز کا ذریعہ بن سکیں۔ان میں سے سب سے معروف وہ انسان ہیں جنہیں ننڈر تھل (Neanderthal) کا نام دیا گیا ہے جو آج سے ایک لاکھ سال قبل سے لے کر 35 ہزار سال قبل کے زمانہ میں اس زمین پر آباد تھے۔ان کی آبادیاں زیادہ تر یورپ، مشرق قریب اور وسطی ایشیا کے علاقوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔اسی طرح پوری نشو و نما پا کر بڑا ہونے والے ایک انسانی وجود کا ڈھانچہ دریافت ہوا ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب آدم اور حوا نے جنت میں اپنے عارضی اور مختصر قیام کا آغاز کیا وہ اس زمانہ سے بھی ۲۹ ہزار سال قبل اس زمین پر گھومتا پھرتا تھا۔اس زمانہ کے انسان جسمانی ساخت کے لحاظ سے بالکل ہماری طرح کے تھے اور وہ یورپ، افریقہ اور ایشیا میں رہتے تھے۔بعد ازاں زمانہ برف Ice age میں وہ شمالی اور جنوبی امریکہ میں بھی پھیل گئے۔اسی طرح آسٹریلیا میں وہاں کے قدیم باشندوں کی مستند ثقافتی زندگی کا سراغ چالیس ہزار سال قبل کے زمانہ تک ملتا ہے۔یہ تو ہمارے اپنے زمانہ سے نسبتاً قریب کے زمانوں کا ذکر ہے ورنہ حبشہ کے مقام پر ہیڈار Hedar سے ایک عورت کا ڈھانچہ ملا ہے جو ہمیں لاکھ نوے ہزار سال پرانا ہے۔بائبل کے بیان کردہ سلسلہ وار تاریخی ادوار کی رو سے آدم اور حوا آج سے چھ ہزار سال پہلے گزرے تھے۔آدمی جب پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھتا ہے تو اپنے ہی جیسے انسانوں کی جنہیں سائنس کی مخصوص اصطلاح میں ہومو سیسپیئنز Homo Sapiens کہا جاتا ہے تاریخ قدامت دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔انسانی دکھوں کے تسلسل کا جاری رہنا اس بارہ میں کہ آدم اور حوا کو کیوں اور کس طرح سزا ملی تھی انسان بائبل کا بیان پڑھ کر حیران ہوئے