مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 14

14 میسحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک زرتشت نے گہری خاموشی کے بعد بڑے فکر انگیز لہجے میں کہا: ”تم نے آخر تک اس کی خدمت کی۔کیا تمہیں پتہ ہے کہ اس کی موت کیسے واقع ہوئی ؟ کیا وہ جو لوگ کہتے ہیں، صحیح ہے کہ اس کی رحم دلی نے خود اس کا اپنا گلا گھونٹ کر رکھ دیا۔اور یہ کہ اس نے دیکھا کہ آدمی کیسے صلیب پر ٹنگا ہوا تھا۔وہ اس تکلیف کو برداشت نہ شخص کی کر سکا۔لوگوں سے محبت اس کے لئے جہنم بن گئی اور آخر کار اس کی موت پر منتج ہوئی۔“ بوڑھے پوپ نے کوئی جواب نہ دیا۔وہ اس حال میں کہ چہرے پر دکھ اور ملال کے آثار ہو یدا تھے خفت کے رنگ میں ایک اور ہی سمت گھورنے لگا۔زر تشت نے کافی غور وفکر میں ڈوبے رہنے کے بعد جس کے دوران وہ بوڑھے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گھور تا رہا تھا۔آخر کار کہا اب مجھے چلنا چاہیے۔“ ”اسے جانے دو وہ کبھی کا ختم ہو چکا۔اور یہ امر تیرے معزز ہونے پر دلالت کرتا ہے کہ تو اس مرے ہوئے خدا کو اچھے رنگ میں یاد کرتا ہے۔ویسے تو بھی جانتا ہے اور میں بھی جانتا ہوں کہ وہ کون اور کیا تھا اور یہ کہ اس نے عجیب راہوں کی پیروی کی۔“ بوڑھے پوپ نے خوشی کے عالم میں کہا: ” یہ آپس کی بات ہے اور میں آنکھوں تلے کہہ سکتا ہوں (کیونکہ وہ ایک آنکھ سے اندھا تھا) مقدس روحانی امور میں خود زرتشت سے زیادہ روشن ضمیر ہوں اور اے کاش ایسا ہی ہو۔“ میں نے از راہ محبت بہت سالوں تک اس کی خدمت کی اور اپنی مرضی کو اس کی مرضی کے تابع کر کے میں اس کی رضا کی تمام راہوں پر چلا۔تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک اچھا خدمت گزار سب کچھ جانتا ہے اور وہ کچھ بھی جانتا ہے جسے اس کا آقا خود اپنے آپ سے چھپایا کرتا تھا۔“ وہ ایک پوشیدہ خدا تھا اور سربستہ راز کی حیثیت رکھتا تھا۔وہ اپنے ایک بیٹے کے روپ میں آیا اور آیا بھی خفیہ اور بالواسطہ ذرائع سے۔اس پر ایمان لانے کی راہ کے دروازہ میں بدکاری ایستادہ ہے۔“ جو کوئی محبت کے خدا کی حیثیت سے اس کی تعظیم کرتا ہے وہ خود محبت کو عظیم درجہ نہیں دیتا