مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 7

7 ابنیت صحیح کی اصل حقیقت کارگر ذریعہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔مزید برآں اس بارہ میں لیبارٹریز (سائنسی تجربہ گاہوں) میں بھی بعض تجربات کیے گئے ہیں۔مثال کے طور پر چوہیوں اور مادہ خرگوشوں میں جنسی عمل کے بغیر مصنوعی طریقہ سے جنین پیدا کر کے اس کو نصف مدت حمل تک نشو و نمادی گئی اور بعد ازاں حمل کا اسقاط کر دیا گیا۔حالیہ ریسرچ کے مطابق کبھی کبھی انسانی جنین کو بھی غیر جنسی عمل افزائش کے رنگ میں Calcium Ionophore کو اضافی مادہ کے طور پر استعمال کر کے متحرک کیا جا سکتا ہے۔ایسی تحقیقات سے اس بات کا امکان ظاہر ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم کے انسانی اسقاط حمل بیضہ کے مصنوعی طریق پر جنین پیدا کرنے کی صلاحیت کے ارتقا کا سبب ہے۔جدید تجرباتی تحقیق کے مطابق اس بات کا امکان ثابت ہے کہ کنواری سے بچہ کی پیدائش ممکن ہے۔Nature Geneticsاکتوبر 1995ء کی ایک حیران کن رپورٹ کے مطابق ایک تین سالہ بچے کی پیدائش ایک ایسے بیضہ سے ہوئی جس کا جنسی اختلاط نہیں ہوا تھا۔DNA کی تحقیق سے یہ پتہ چلا کہ بچے کی جلد اور خون میں موجود x کروموسوم والدہ ہی کی طرف سے تھے۔اسی طرح خون میں موجود دیگر بائیں کر و موسوم کے دونوں جوڑے والدہ کے کروموسوم سے مشابہ تھے اور مکمل طور پر والدہ سے ودیعت ہوئے تھے۔معجزات کیا ہوتے ہیں ؟ جب کسی مرد سے ملاپ کے بغیر کسی کنواری ماں کے بطن سے ولادت کا ہو سکنا قوانین قدرت کی رُو سے ناممکن نہیں بلکہ ایسا ہو نا عین ممکنات میں سے ہے تو یہ سارا معاملہ قوانین قدرت سے ماورا اور بالکل ناممکن کیسے قرار پاسکتا ہے اور اس امر کی گنجائش ہی کہاں باقی رہتی ہے کہ ولادتِ مسیح کو ضرور مافوق الفطرت قرار دیا جائے۔اور پھر اس معاملہ کو اس انتہا تک پہنچایا جائے کہ مسیح کی انسانی ولادت کو خدا کے حقیقی بیٹے کی ولادت یقین کیا جائے اور اس کے حقیقی ابن اللہ ہونے پر باقاعدہ ایمان بھی لایا جائے۔جب قوانین قدرت کی ایک زندہ حقیقت کے طور پر اس نوع کی ولادت کے بعض شواہد منظر عام پر آچکے ہیں تو پھر اس بات پر یقین کرنے میں قباحت ہی کیا ہے کہ مسیح کی ولادت ایک غیر معمولی واقعہ تو ضرور ہے لیکن یہ رونما ہوا ہے قدرت کے بعض ایسے قوانین کے تحت جن پر سے ابھی پورے طور پر پردہ نہیں اُٹھا ہے۔مریم میں درآنحالیکہ کسی مرد نے اسے چھوا تک نہ تھا خاص خدائی منصوبہ اور تصرف کے تحت اندرونی طور پر